رسائی کے لنکس

’آیئے ووٹ ڈالیے‘عرب امریکی ووٹروں کا نعرہ

  • محمد الشناوی

’آیئے ووٹ ڈالیے‘عرب امریکی ووٹروں کا نعرہ

’آیئے ووٹ ڈالیے‘عرب امریکی ووٹروں کا نعرہ

امریکہ میں انتخاب کے دن میں اب صرف دو ہفتے با قی رہ گئے ہیں۔ ملک بھر میں امید وار ووٹروں کے ساتھ رابطوں کی کوشش کر رہے ہیں۔ واشنگٹن ڈی سی کے نواح میں ناردرن ورجینیا کے علاقے میں، امریکی کانگریس کے امید وار ایک اجتماع میں موجود تھے جس کا اہتمام عرب امریکی ووٹروں نے کیا تھا۔

اس شب جب امریکی کانگریس کے امید وار جمع ہوئے، تو نیو یارک سٹی میں اسلامک کلچرل سینٹر کی تعمیر کا تنازع ایک مقبول موضوع تھا۔امیدواروں نے عرب امریکی ووٹروں کو یقین دلایا کہ وہ سول اور مذہبی آزادیوں کے حامی ہیں۔ حاضرین نے ڈیموکریٹک امیدوار جِم موران کے بیان پر انہیں خراج تحسین پیش کیا۔ جِم نے کہا’’میں نے بڑی شدت سے یہ محسوس کیا کہ اسلامک سینٹر جس کے سربراہ ایک اعتدال پسند اور دانشمند امام ہیں اور جس میں تمام بڑے ابراہیمی مذاہب کی عبادت گاہیں موجود ہوں گی، بالکل اسی جگہ تعمیر کیا جانا چاہیئے جہاں اس کی تجویز ہے کیوں کہ ہم باقی دنیا کو یہی پیغام دینا چاہتے ہیں۔‘‘

امریکی کانگریس میں موران کی نشست کو چیلنج کرنے والے ریپبلیکن امیدوار پیٹرک مرے ہیں۔ اس تقریب میں انھوں نے اپنی نمائندگی کے لیے اپنے میڈیا ڈائریکٹر Robert Gasiewicz کو بھیجا تھا۔ مسٹر Gasiewicz نے کہا’’کسی حکومت کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی بھی مذہب کے پیروکاروں سے یہ کہے کہ انہیں کیا کرنا چاہیئے اور کیا نہیں کرنا چاہیئے، کیا تعمیر کرنا چاہیئے اور کیا تعمیر نہیں کرنا چاہیئے۔ سچی بات یہ ہے کہ ہمارا ورثہ تو یہ ہے کہ لو گ سمندر پار انگلینڈ میں مذہبی ظلم و زیادتی سے بچنے کے لیے یہاں آئے۔ وہ یہاں عبادت کی آزادی چاہتے تھے۔‘‘

ورجینیا کے عرب امریکی 1987 سے امیدواروں کی شب مناتے رہے ہیں۔ اس پروگرام میں دونوں پارٹیوں کے حامی شریک ہوتے ہیں لیکن عرب امریکیوں کے حالیہ سروے سے پتہ چلا ہے کہ ایک کے مقابلے میں دو کے تناسب سے وہ ڈیموکریٹک امیدواروں کی حمایت کرتے ہیں۔

جمیل الشامی وسیع تر واشنگٹن کے علاقے میں عرب امریکی ریپبلیکنز نامی تنظیم کے بانی ہیں۔ وہ یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ عرب امریکی اب بھی صدر اوباما کی عرب اور مسلمان دنیا سے رابطے قائم کرنے کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔’’صدر اوباما نے ان مسائل کی بات کی ہے جن میں عرب امریکی ریپبلیکنز اور عرب امریکی ڈیموکریٹس دونوں کو دلچسپی ہے اور اگرچہ ہمارا خیال یہ ہے کہ ان کے عزائم کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں، لیکن عرب امریکیوں کو اب بھی یہ امید ہے کہ وہ اپنی انتظامیہ کے دوسرے نصف حصے میں کچھ کر سکیں گے ۔‘‘

الشامی کے مطابق، عرب امریکی ووٹ دیتے وقت مسئلے کو سامنے رکھتے ہیں نہ کہ اپنی پارٹی سے وفاداری کو۔ تاہم، ڈیموکریٹک کانگریس مین، Gerry Connolly کا کہنا ہے کہ عرب امریکیوں کا رجحان ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف ہوتا جا رہا ہے ۔’’حالیہ برسوں میں عرب امریکی کمیونٹی نے اپنی سیاسی وابستگی کا از سر نو جائزہ لیا ہے۔ اسے پتہ چلا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی میں ان کے لیے کہیں زیادہ گرمجوشی اور مختلف نسلوں اور مذاہب کے لیے رواداری موجود ہے۔ ہم نے دونوں پارٹیوں کے بارے میں عرب امریکی کمیونٹی کے رویے میں زبردست تبدیلی دیکھی ہے ۔ وہ اب خود کو ڈیموکریٹک پارٹی سے بہت زیادہ قریب محسوس کرتے ہیں۔‘‘

وسط مدتی انتخاب میں جب صدارتی امیدوار وں کے درمیان مقابلہ نہیں ہو رہا ہوتا ہے، ووٹ ڈالنے والوں کی تعداد روایتی طور پر کم ہوتی ہے ۔ عرب امریکی ڈیموکریٹک کاکس کی بانی، صبا شامی کہتی ہیں کہ عرب امریکی سیاسی کارکن ووٹروں میں جو ش و خروش پیدا کرنے کے لیے پوری طرح سرگرم ہیں۔’’ٹیلیفون پرلوگوں سے رابطہ کیا جا رہا ہے، ہم نے کئی زبانوںمیں فلائیرز چھاپے ہیں، ہم عربی اور انگریزی زبانیں استعمال کرتےہیں کیوں کہ ہماری کمیونٹی میں کچھ لوگ عربی اچھی طرح نہیں جانتے۔ اور جو میڈیا ہماری دسترس میں ہے، ہم اسے استعمال کرتے ہیں۔ ماضی میں ہم ایک مقامی ٹیلیویژن اسٹیشن استعمال کیا کرتے تھے لیکن اب ہمارے پاس ٹیلیویژن اسٹیشن نہیں ہے لیکن ایک اخبار ہے جسے ہم ایک اشتہار کی شکل میں شائع کرتے ہیں تا کہ ہم اس میں کمیونٹی کی اطلاع کے لیے معلومات فراہم کر سکیں۔‘‘

عرب امریکی کارکن امیدواروں کے ساتھ اس قسم کی تقریبات کا انتظام پورے ملک میں کر رہے ہیں۔ بعض ریاستوں میں انھوں نے عرب امریکی ووٹروں کو نئی ووٹنگ مشینوں کا استعمال سکھانے کا بھی انتظام کیا ہے ۔ اب جب کہ انتخاب کے دن میں صرف دو ہفتے باقی رہ گئے ہیں، وسط مدتی انتخاب کے لیے ، ان کا نعرہ ہے، آئیے، ووٹ ڈالیے ۔

XS
SM
MD
LG