رسائی کے لنکس

خطہ عرب کی عوامی تحریکیں اور عرب نژاد امریکی

  • ڈیبرا بلاک

خطہ عرب کی عوامی تحریکیں اور عرب نژاد امریکی

خطہ عرب کی عوامی تحریکیں اور عرب نژاد امریکی

امریکہ میں آباد عرب ، اپنے ملکوں میں ابھرنے والی بڑی عوامی تحریکوں اور تبدیلیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں ۔اور ان کے بارے میں اپنا خاص نقطہ نظر رکھتے ہیں۔

ریاست ورجینیا کے دیوان کیفے میں بیٹھے موندار سلمین کا تعلق تیونس سے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تیو نس میں احتجاج کے بعد صدر زین العابدین کے حکومت کے خاتمے نے انھیں بھی آزادی کااحساس دیا ہے۔ زین العابدین کی حکومت میں وہ کیمرے کے سامنے سیاسی موضوع پر کچھ کہنے سے شاید گریز کرتے۔

قریب کے ایک اور ریستوران میں بیٹھے ہوئے لوگ مصر میں حسنی مبارک کی حکومت پر گفتگو کر رہے تھے۔ایسام دیہاب اس ریستوران میں کام کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حسنی مبارک کا صرف یہ کہہ دینا کہ وہ اگلے انتخابات میں نہیں لڑیں گے کافی نہیں۔ انھیں استعفی دینا چاہیے۔

ان کا کہناتھا کہ لاکھوں افراد صدر مبارک سے کہہ رہے ہیں کہ وہ انھیں قبول نہیں ، لیکن وہ جا نا نہیں چاہتے۔ کتنے لوگ زٕخمی اور ہلاک ہوئے ، کس لیے؟ تاکہ وہ اپنے عہدے پر قائم رہیں؟ میں سمجھتا ہوں اس کا کوئی جواز نہیں۔

احمد دارہان اس سے اتفاق کرتے ہیں۔ لیکن ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ مصر کے حالات اتنے برے نہیں تھے ، اب وہ اپنے ملک کے مستقبل کے بارے میں فکرمند ہیں۔ان کا کہناتھا کہ حسنی مبارک کے بعد حالات اور خراب ہو جائیں گے۔

کیفے کی مالکہ نیہاد اہبو تا کہتی ہیں کہ حسنی مبارک کے جانے سے پورا مشرق وسطی متاثر ہوگا۔ ان کا کہناتھا کہ اس سے صرف مصر کے ہی حالات ٹھیک نہیں ہوں گے بلکہ عرب دنیا کے لیے بھی امید کی ایک کرن پیدا ہو گی۔

سلمین کو امید ہے کہ ان کے ملک تیونس کا مستقبل روشن ہے۔ ان کا کہناتھا کہ اب وہ وقت آگیا ہے کہ عرب دنیا میں جمہوریت کو پنپنے کاموقع دیا جائے۔

XS
SM
MD
LG