رسائی کے لنکس

یمن: عرب طیاروں کی بمباری، 36 عام شہریوں کی ہلاکت کی اطلاع


فائل

فائل

علاقہ مکینوں کے مطابق تباہ شدہ فیکٹری کے ملبے سے وہاں کام کرنے والے 36 مزدوروں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں جن میں سے بیشتر جھلسی ہوئی یا ٹکڑوں میں تقسیم ہیں۔

یمن کے شمال مغربی صوبے میں سعودی عرب کی قیادت میں قائم عرب اتحاد کے طیاروں کی بمباری سے کم از کم 36 عام شہریوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق بمباری اتوار کی صبح یمنی صوبے حجہ میں ایک فیکٹری پر کی گئی۔

علاقہ مکینوں نے 'رائٹرز' کو بتایا ہے کہ تباہ شدہ فیکٹری کے ملبے سے وہاں کام کرنے والے 36 مزدوروں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں جن میں سے بیشتر جھلسی ہوئی یا ٹکڑوں میں تقسیم ہیں۔

سعودی عرب کی قیادت میں تشکیل پانے والے عرب ملکوں کے اتحاد کے جنگی طیارے رواں سال مارچ سے شیعہ حوثی باغیوں کے ٹھکانوں اور مسلح دستوں کو بمباری کا نشانہ بنارہے ہیں جنہوں نے گزشتہ سال ستمبر میں دارالحکومت صنعا پر قبضہ کرلیا تھا۔

عرب اتحاد کا موقف ہے کہ وہ یہ کاررروائی یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی درخواست پر کر رہا ہے جس کےبیشتر عہدیدار – بشمول صدر عبد ربہ منصور ہادی اور ان کی کابینہ کے وزرا - باغیوں کی پیش قدمی کے باعث خود ساختہ جلاوطنی پر بیرونِ ملک مقیم ہیں۔

لیکن باغیوں کے خلاف عرب اتحاد کی فضائی کارروائیوں کے دوران کئی بار عام شہریوں کی ہلاکت کے دعوے بھی سامنے آتے رہے ہیں۔

رواں ماہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم 'ایمنسٹی انٹرنیشنل'نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ عرب ملکوں کی یمن پر بمباری کے دوران عام شہریوں کی ہلاکت کی مسلسل اطلاعات مل رہی ہیں جو "جنگی جرائم" کے زمرے میں آتی ہیں۔

گزشتہ جمعے کو بھی عرب طیاروں کی بمباری کے نتیجے وسطی شہر تعز میں 65 افراد مارے گئے تھے جن میں سے کئی مقامی رہائشیوں کے مطابق عام شہری تھے۔

اس سے قبل جولائی میں طیاروں نے ملک کے مغربی حصے میں ڈیری مصنوعات تیار کرنے والی فیکٹری پر بمباری کردی تھی جس میں 10 بچوں سمیت 60 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

یمن کی جلاوطن حکومت اور عرب اتحاد کے قائد سعودی عرب کے اعلیٰ حکام بارہا اس موقف کا اظہار کرچکے ہیں کہ وہ اپنی فضائی کارروائیوں کے دوران ہر ممکن احتیاط ملحوظ رکھ رہے ہیں تاکہ عام شہریوں کو کوئی گزند نہ پہنچے۔

صدر ہادی کی حکومت کا موقف ہے کہ شیعہ باغی یمن میں شہروں اور قصبوں پر گولہ باری کر رہے ہیں اور عرب اتحاد کی بمباری سےبچنے کے لیے شہری آبادی کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتےہیں جس کے نتیجے میں زیادہ جانی نقصان ہورہا ہے۔

یمن میں گزشتہ پانچ ماہ سے جاری لڑائی میں اب تک 4300 سے زائد افراد مارے جاچکے ہیں جب کہ غربت کا شکار اس عرب ملک میں لاکھوں افراد بے گھری اور بنیادی ضرورتوں سے محروم زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

XS
SM
MD
LG