رسائی کے لنکس

عرب ہپ ہاپ اور مشرق وسطی میں تبدیلی کی لہر

  • اینڈی ایڈورڈز
  • نیلوفر مغل

عرب ہپ ہاپ اور مشرق وسطی میں تبدیلی کی لہر

عرب ہپ ہاپ اور مشرق وسطی میں تبدیلی کی لہر

مغربی لندن میں واقع Leighton House ہپ ہاپ موسیقی کے شائقین کے لئے کچھ غیر روایتی مقام ہے ، مگر شائد اس کے بانی Frederic Leighton کو یہ موسیقی سن کر اچھا ہی محسوس ہو۔

مراکش سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے ہپ ہاپ موسیقی کے اپنے شوق کو اُس وقت پہچانا جب وہ پڑھنے کےلئے لندن آئیں اور اب انہوں نے اس موسیقی میں نمایاں مقام بنا لیا ہے۔ماسٹر ممز نے عرب دنیا میں جمہوری تبدیلیوں کے حوالے سے ایک گیت بھی تیار کیا ہے ۔

مغربی لندن میں واقع Leighton House ہپ ہاپ موسیقی کے شائقین کے لئے کچھ غیر روایتی مقام ہے ، مگر شائد اس کے بانی Frederic Leighton کو یہ موسیقی سن کر اچھا ہی محسوس ہو۔

مریم Bouchentouf جو ماسٹر ممز کے نام سے جانی جاتی ہیں مشرق وسطی کے ثقافت کو پیش کرنے کے لیے مقامی طور پر منعقد ہونے والے اس نور فیسٹیول کا حصہ تھیں ۔ دو سال پہلے لندن آنے سے قبل انہوں نے یہ نہیں سوچا تھا کہ وہ ایک پرستار سے فنکار بن جائینگی ۔

مریم کہتی ہیں: ’ میں نے ہپ ہاپ موسیقی کا راستہ اس لئے چنا کہ مجھے ہمیشہ سے ہی یہ موسیقی پسند تھی ، مجھے لگا کہ یہ روک موسیقی کی طرح نئی نسل کی آواز ہے ‘۔

اس سال جنوری میں قاہرہ کے تحریر سکوائر سے شروع ہونےو الی تحریک نے مشرق وسطٰی کے کئی ملکوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔عرب ہپ ہاپ میں بے انصافی کو ہمیشہ موضوع بنایا گیا ہے ۔لیکن ماہر موسیقی راندہ صفیہ کہتی ہیں کہ مریم جو کچھ کر رہی ہیں ، وہ ایک انقلابی مہم سے کچھ زیادہ ہے ۔

راندہ کا کہنا ہے کہ مریم عرب ہپ ہاپ فنکاروں کی نئی نسل کا حصہ ہے ،مگر خواتین ہپ ہاپ فنکاروں کی تعداد اب بھی بہت کم ہے۔ میرے خیال میں مریم کی طرح کے فنکارمستقبل کے لیے ایک مثال قائم کر رہے ہیں جو اس قسم کی موسیقی کی ترقی کے لیے اچھا ہے۔

مریم کا ایک مقبول گیت بیک ڈاوٴن مبارک ہے جو ناصرف مصر میں ہونے والے واقعات سےمتاثر ہو کر لکھا گیا، بلکہ اسے مصری ثقافت سے لگاوٴ کا اظہاربھی سمجھا جاتا ہے ۔ وہ کہتی ہیں، ’اگرچہ ہم مراکش میں پلے بڑھے مگر ہم مصری ثقافت سے اچھی طرح واقف ہیں چاہے وہ فلموں کے ذریعے ہو یا آرٹ کے ذریعے۔ میں نے ہمیشہ اپنے آپ کو وہاں سے قریب تر محسوس کیا اور میرے خیال میں پوری عرب دنیا اس سے اتفاق کریگی کہ مصر کی ثقافت ہمارے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے۔تو جب وہاں تبدیلی آئی تو ہم نے فوراً اپنے آ پ کو اس سے منسلک محسوس کیا۔

مریم کے کام میں عرب معاشرے کی ایک خاتون کی حیثیت سے بہت کچھ کہنے کی خواہش نظر آتی ہے ۔ ماہر موسیقی رانداصفیہ کا کہنا ہے کہ مشرق وسطٰی کے نوجوان اس موسیقی کے ذریعے اپنی دیرینہ روایات ہی کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ عرب نوجوانوں کے اس ہپ ہاپ موسیقی کی طرف مائل ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ عرب ثقافت میں شاعری اور بولے ہوئے لفظ کی بہت اہمیت ہے ۔اس لئے اس میں اور عرب ہپ ہاپ میں بہت مماثلت ہے۔

اگرچہ، ہپ ہاپ موسیقی کو گذشتہ تیس برسوں سے موسیقی کی ایک قسم کے طور پر جانا جاتا ہے ، مگرایک عرب خاتون کے طور پر مریم باوچنتوف موجودہ عالمی حالات میں اِس کے ذریعے ایک نیا خیال پیش کر رہی ہیں۔

XS
SM
MD
LG