رسائی کے لنکس

عرب لیگ کی شام میں صدارتی انتخابات کے اعلان پر تنقید


قاہرہ میں عرب لیگ کے سربراہ نبیل ال عربی کا کہنا تھا کہ، ’انتخابات کے انعقاد سے شام کے بحران پر کسی سیاسی حل کے لیے کی جانے والی کاوشوں کو نقصان پہنچے گا‘۔

عرب لیگ کے سربراہ نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جس وقت شام خانہ جنگی کا شکار ہے، وہاں پر صدارتی انتخابات کا انعقاد، ملک کے حالات میں مزید ابتری اور شام میں حالات درست کرنے کی عالمی کوششوں کو نقصان پہنچائے گا۔

شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت نے پیر کے روز اعلان کیا تھا کہ شام میں رواں برس 3 جون کو صدارتی انتخابات کا انعقاد کیا جائے گا۔

قاہرہ میں عرب لیگ کے سربراہ نبیل ال عربی کا کہنا تھا کہ، ’اس اقدام (انتخابات کے انعقاد) سے شام کے بحران کے حوالے سے کسی سیاسی حل کے لیے کی جانے والی کاوشوں کو نقصان پہنچے گا‘۔

مغربی اور عرب ممالک نے جو شام میں باغیوں کی پشت پناہی کر رہی ہیں، بشار الاسد کی حکومت پر انتخابات کے انعقاد پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اسے ’جمہوریت کے ساتھ مذاق‘ قرار دیا ہے، جو اُن کے مطابق امن کی جانب کیے جانے والے اقدامات کو زک پہنچائے گا۔

عرب لیگ کے سربراہ نبیل ال عربی کا کہنا تھا کہ، ’شام کے موجودہ بحران میں جبکہ وہاں پر انسانیت سوز حالات ہیں، 6 ملین سے زائد شامی عوام در بدر ہو چکے ہیں، ایسے میں شام میں جمہوری اور شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں لگتا‘۔


گو کہ بشار الاسد کی جانب سے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا کوئی باقاعدہ اعلان نہیں کیا گیا مگر شام کے دارالحکومت میں اس حوالے سے تیاریاں شروع کی جا چکی ہیں۔
XS
SM
MD
LG