رسائی کے لنکس

دولتِ اسلامیہ کو ہرانے کا دعویٰ قبل از وقت ہوگا، پینٹاگون


فائل

فائل

پینٹاگون کے مطابق امریکی حکام شام میں کیے جانے والے حالیہ حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکت یا ان کے زخمی ہونے کے الزامات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

امریکی محکمہ ٔ دفاع 'پینٹاگون' نے کہا ہے کہ عراق اور شام میں سرگرم شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف امریکی سربراہی میں قائم بین الاقوامی اتحاد کی فتح کا فی الحال دعویٰ نہیں کیا جاسکتا۔

جمعرات کو صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے 'پینٹاگون' کے ترجمان ریئر ایڈمرل جان کربی نے کہا کہ شدت پسند تنظیم کے ٹھکانوں پر بمباری کے باوجود اسے بدستور مالی وسائل، ہتھیار اور رضاکار دستیاب ہیں جس کے باعث اسے شکست دینے کا دعویٰ کرنا قبل از وقت ہوگا۔

جان کربی کا کہنا تھا کہ شام کے جن علاقوں میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے وہاں انہیں شام کی سرکاری افواج کی پیش قدمی کے شواہد نہیں ملے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکی حکام عراق اور شام میں کیے جانے والے حالیہ حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکت یا ان کے زخمی ہونے کے الزامات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

دریں اثنا پینٹاگون کے بعض ذرائع نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ جمعرات کو شام میں دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں پر کیے جانے والے حملوں کے تیسرے مرحلے میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی فوج نے بھی حصہ لیا تھا۔

پینٹاگون کے مطابق بدھ اور جمعرات کی شب کیے جانے والے حملوں میں شدت پسندوں کے زیرِ استعمال چھوٹی آئل ریفائنریز کو نشانہ بنایا گیا تھا جن کے ذریعے شدت پسند روزانہ 20 لاکھ ڈالر کما رہے تھے۔

امریکی دفاعی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ان اہداف پر 80 فی صد بم دونوں عرب ملکوں کے طیاروں نے گرائے۔ ایک شامی تنظیم کے مطابق ان حملوں میں کم از کم 14 شدت پسند اور پانچ عام شہری مارے گئے ہیں۔

پینٹاگون کے مطابق شام کے ساتھ ساتھ عراق میں بھی دولتِ اسلامیہ کے خلاف امریکہ اور اتحادیوں کے فضائی حملے جاری ہیں جن میں شدت پسندوں کو خاطر خواہ نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG