رسائی کے لنکس

ایران خطے کی سلامتی داؤ پر لگا رہا ہے، عرب لیگ کا الزام


فائل

فائل

متحدہ عرب امارات کے وزیرِ خارجہ نے کہا کہ خطے پر اپنی بالادستی قائم کرنے کے لیے ایران فرقہ واریت کا سہارا لینے سے بھی گریز نہیں کرتا جو عرب ملکوں کے لیے باعثِ تشویش ہے۔

عرب لیگ نے الزام عائد کیا ہے کہ ایران عرب ملکوں کے معاملات میں مداخلت کرکے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی داؤ پر لگارہا ہے۔

اتوار کو مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ہونے والے عرب ملکوں کی نمائندہ تنظیم کے ہنگامی اجلاس سے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کے وزیرِ خارجہ شیخ عبداللہ بن زید النہیان نے کہا کہ تنظیم کا اجلاس ایسے وقت ہورہا ہے جب خطے میں "کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ" ہوچکا ہے۔

اماراتی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ عرب ممالک ایران کی جانب سے سفارتی مراکز پر حملوں کی سخت مذمت کرتے ہیں اور سعودی عرب یا کسی دوسرے عرب ملک کے معاملات میں ایران کی مداخلت کی پالیسی کو سختی سے مسترد کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خطے پر اپنی بالادستی قائم کرنے کے لیے ایران فرقہ واریت کا سہارا لینے سے بھی گریز نہیں کرتا جو عرب ملکوں کے لیے باعثِ تشویش ہے۔

اتوار کو ہونے والا عرب لیگ کا اجلاس سعودی عرب اور ایران کے تعلقات میں پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی کے تناظر میں طلب کیا گیا تھا جس کا مقصد ایران کے خلاف عرب ملکوں کو مشترکہ موقف پر جمع کرنا تھا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی وزیرِ خارجہ عادل الجبیر کا کہنا تھا کہ تہران میں سعودی سفارت خانے پر حملے سے خطے کے عرب ملکوں سے متعلق ایران کی پالیسی کا اظہار ہوتا ہے۔

سعودی وزیر نے الزام عائد کیا کہ ایران خطے کے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور فرقہ واریت کو فروغ دے کر مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور استحکام کو متاثر کر رہا ہے۔

سعودی عرب میں گزشتہ ہفتے ایک اہم شیعہ رہنما کی سزائے موت پر عمل درآمد کے بعد ایران اور سعودی عرب میں پیدا ہونے والی کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور تاحال تعلقات میں بہتری کی کوئی صورت پیدا نہیں ہوسکی ہے۔

پھانسی کی سزا پر عمل درآمد کے خلاف تہران میں مظاہرین نے سعودی سفارت خانے پر دھاوا بول کر توڑ پھوڑ کی تھی جس کے ردِ عمل میں سعودی عرب اور اس کے بعض اتحادی عرب ملکوں نے ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کردیے تھے۔

جواباً ایران نے بھی سعودی عرب سے تمام تجارتی تعلقات توڑنے کا اعلان کیا ہے اور ایرانی زائرین کے مکہ جانے پر پابندی عائد کردی ہے۔

عرب لیگ کے اجلاس سے قبل ہفتے کو صورتِ حال پر غور و خوض کے لیے چھ خلیجی عرب ملکوں کی نمائندہ تنظیم 'خلیج تعاون کونسل' کا غیر معمولی اجلاس منعقد ہوا تھا جس کے بعد سعودی عرب نے ایران کے خلاف "مزید اقدامات" کرنے کا اعلان کیا تھا۔

تاحال سعودی قیادت نے ان "مزید اقدامات" کی کوئی وضاحت نہیں کی ہے۔

دریں اثنا ایران نے الزام عائد کیا ہے کہ سعودی عرب حالیہ کشیدگی کی آڑ میں شام کے بحران کے لیے حل کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ایرانی وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے اتوار کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سعودی عرب بطور حکمتِ عملی کشیدگی پیدا کر رہا ہے تاکہ شامی بحران پرمنفی اثر ڈال سکے۔

اپنے بیان میں جواد ظریف نے کہا کہ ایران کسی صورت سعودی عرب کو شام کے بحران پر اثر انداز ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔

XS
SM
MD
LG