رسائی کے لنکس

یورپی یونین اور مشرق وسطیٰ کے جمہوری انقلاب

  • آمنہ خان

یورپی یونین اور مشرق وسطیٰ کے جمہوری انقلاب

یورپی یونین اور مشرق وسطیٰ کے جمہوری انقلاب

مصر اور تیونس میں جمہوری انقلاب کے بعد جہاں سیاسی اور معاشی نظام میں اصلاح کی کوششیں جاری ہیں وہاں یورپی ہمسائیوں سے امداد کی توقعات بھی موجود ہیں۔ قاہرہ میں قائم اکنامک ریسرچ فورم نامی ایک علاقائی تحقیقی ادارے سے منسلک ماہر اقتصادیات احمد جلال کہتے ہیں کہ بین الاقوامی کمیونٹی ان نئی حکومتوں کا ساتھ دے گی۔ میرا خیال ہے کہ یہ ان کے مفاد میں ہو گا کہ اس خطے میں بھی خوشحالی آئے اور یہ تحریکیں کامیابی سے اختتام کو پہنچیں۔

لیکن یورپی یونین میں موجودہ اقتصادی غیر یقینی کے پیش نظر بعض ماہرین کو فکر ہے کہ یورپی ممالک لیبیا ، تیونس اورمصر جیسے ملکوں کو اس پیمانے پر امداد فراہم نہیں کر پائیں گے، جس کی انہیں ضرورت ہے۔ ماہرین کے مطابق اقتصادی مسائل کی وجہ سے غیر یقینی کا ماحول برقرار ہے، اور اسی لیے شمالی افریقہ اور مشرق وسطی کے ملکوں کو امداد فراہم کرنے کےلیے یورپی ملکوں کا آپس میں تعاون بڑھانا بھی بہت ضروری ہو گا۔

سویڈن کی وزیر برائے بین الاقوامی ترقیاتی تعاون گونیلا کارلسن کہتی ہیں کہ یہ دیکھنے کے لئے کہ آنے والی تبدیلیوں اور چیلنجز کا مشترکہ طور پر سامنا کیا جا سکے، افریقہ کے کچھ خطوں میں ترقی کے مواقعوں کا بہترین استعمال ممکن بنایا جا سکے اورشمولیت پر زیادہ زور دیا جا سکے۔

ان کا کہناہے کہ جمہوری تبدیلیوں کے بعد ان عرب اور افریقی ملکوں میں خصوصی طور پر خواتین اور نوجوانوں کے لیے مواقع اورملازمتیں پیدا کرنے پر توجہ دینا ضروری ہو گا۔ ان کے مطابق ان ملکوں سے یورپ کا رخ کرنے والے پناہ گزینیوں کی صورت حال پر بھی توجہ دی جانی چاہیے۔

احمد جلال کا کہناہےکہ مزدوروں کی آمد ورفت پر سمجھوتے اور عارضی نقل مکانی شمالی افریقہ اور مشرق وسطی کے ملکوں کےلیے فائدہ مند ہو گی۔ اور یورپی منڈیوں تک ان نئی جمہوری حکومتوں کی رسائی بھی ان کے لئے بہت کارآمد ثابت ہو سکتی ہے۔

گونیلا کارلسن کہتی ہیں کہ جیسے جیسے نئی حکومتیں اور معیشتیں بین الاقوامی کمیونٹی میں شامل ہو تی جا رہی ہیں۔ اور ملکوں کا ایک دوسرے پر انحصار بڑھتا جا رہا ہے، مختلف خطوں کو درپیش مسائل کے حل میں بین الاقوامی سطح پر شمولیت بڑھانا بے حد ضروری ہو گیا ہے ۔

XS
SM
MD
LG