رسائی کے لنکس

2011ء میں عرب ممالک کی عوامی تحریکیں


تیونس میں صدر کے خلاف مظاہرے دیکھتے ہی دیکھتے شدت اختیار کرگئے

تیونس میں صدر کے خلاف مظاہرے دیکھتے ہی دیکھتے شدت اختیار کرگئے

2011ء میں عوامی تحریکوں کی لہر نے اچانک عرب دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ طویل عرصے سے مسلط حکمران اقتدار سے محروم ہو گئے اور کئی ملکوں کے حکمرانوں کا تخت و تاج ڈگمگانے لگا۔ اب یہ علاقہ ہمیشہ کے لیے تبدیل ہو گیا ہے۔

عرب دنیا کے موسمِ بہار کا آغاز ایک نوجوان کی موت سے ہوا۔ جنوری کے شروع میں تیونس کے لوگ ایک نوجوان پھل فروش کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ وہ اس نظام کے خلاف سرا پا احتجاج بن گئے جس کے تحت رہنے والے اس نوجوان نے حالات کے ظلم سے مایوس ہو کر خود کو آگ لگا کر جان دے دی۔ اس کی موت سے ایک ایسی تحریک کو زندگی ملی جس نے مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کا رُخ بدل دیا۔

کئی عشروں سےعلاقے میں سیاسی زندگی جمود کا شکار تھی۔ برائے نام جمہوری ملکوں پر چند مالدار افراد حکومت کرتے تھے جن کے عزائم شاہانہ تھے اور جو اپنے بعد اپنے بیٹوں کو اقتدار منتقل کرنے کے عزم پر قائم تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ کبھی کچھ نہیں بدلے گا لیکن ایک روز سب کچھ بدل گیا۔

جبر و استبداد کے خلاف لاوا جو برسوں سے اندر ہی اندر پک رہا تھا پھٹ پڑا۔ بہت سے لوگوں نے طے کر لیا تھا کہ وہ حالات بدل کر ہی دم لیں گے۔ ہیومین رائٹس واچ کی حیبا مویرف کہتی ہیں کہ ’’ایک ایسا منظر ہے جو ہم نے ایسے کئی عرب ملکوں میں دیکھا ہے جو موسمِ بہار کے تجربے سے گذرے ہیں۔ پہلے تیونس میں، پھر مصر میں، اس کے بعد لیبیا اور شام میں، آپ نے بعض لوگوں کو دیکھا ہے جو عموماً نوجوان ہوتے ہیں۔

یہ لوگ آزادی کے لیے اپنے حقوق کے لیے، جان دینے کو تیار ہوتے ہیں۔ شہر در شہر، یہ سیکورٹی کے مسلح عہدے داروں کے سامنے سینہ سپر ہو جاتے ہیں۔ عرب اسپرنگ کی اصل طاقت ان نوجوانوں کی جرأت ہے جو ظلم و زیادتی کے خلاف سینہ تان کر کھڑ ہو جاتے ہیں۔‘‘

احتجاج کرنے والے ان نوجوانوں نے بڑی حد تک ایک دوسرے سے یہ سبق سیکھا کہ وہ سب ایک ہی مقصد کے لیے لڑ رہے ہیں۔ ان ملکوں کی حکمراں قیادت کا ظالمانہ انداز ہی ان کے زوال کا سبب بن گیا۔ قاہرہ میں امریکن یونیورسٹی کے سعید صادق کہتے ہیں کہ ’’ان تمام ملکوں میں ایک جیسا نظام رائج تھا ۔ فوج، انٹیلی جینس، پولیس کی طاقت کے بَل پر قاَئم مملکت، جیسے تیونس میں، مصر میں، یمن میں، شام میں، لیبیا میں۔ اب یہ نظام سب جگہ ٹوٹ رہا ہے، ڈومینو کے کھیل کی طرح ایک پتہ گرتا ہے تو سارے پتے نیچے آ جاتے ہیں۔‘‘

ان انقلابی تحریکوں نے نہ صرف ان ملکوں کے حکمرانوں کو تبدیل کر دیا، بلکہ طویل عرصے سے قائم اتحاد ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئے۔ حیبا کہتی ہیں کہ ’’اس انقلاب سے مشرق وسطیٰ میں جو بڑا مستحکم علاقہ سمجھا جاتا تھا غیر یقینی کے حالات پیدا ہو گئے ہیں۔ اب تک یہ ہوتا تھا کہ مطلق ا لعنان حکمراں اقتدار اپنے بچوں کے حوالے کر دیتے تھے۔ بین الاقوامی برادری کو یقین ہوتا تھا کہ علاقے میں ان کے بعض دوست موجود ہیں جو استحکام کی ضمانت دیں گے ۔ میں سمجھتی ہوں کہ اب مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں اس قسم کے تصورات ختم ہو گئے ہیں۔ ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا ان احتجاجی مظاہروں کے نتیجے میں ایسی نمائندہ حکومتیں قائم ہوں گی جن کی امید کی گئی ہے۔‘‘

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ تیونس اور مصر میں اسلامی پارٹیوں کا عروج، جمہوری تبدیلی کے لیے خطرہ ہے۔ علاقے کے بعض دوسرے ملکوں میں جدو جہد ابھی جاری ہے ۔

لیکن ایک بات یقینی ہے ۔ یہ بے خوف نوجوان اب عرب دنیا میں ایک طاقت بن کر ابھرے ہیں، ایسی طاقت جس سے اب کوئی نیا عرب لیڈر نظر انداز نہیں کر سکے گا۔

XS
SM
MD
LG