رسائی کے لنکس

شمالی قطب کی برف پگھلنے کا ذمہ دار کون، انسان یا فطرت


آرکٹک مین برف کی تہیں تیزی سے پگھل رہی ہیں۔ فائؒل فوٹو

سائنسی جریدے نیچر کلائمیٹ چینج میں امریکی سائنس دانوں کے ایک گروپ کی شائع ہونے والی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ آرکٹک کا برفانی سمندر کئی عشروں سے یکساں انداز میں سکڑتا رہا ہے اور ستمبر 2012 میں وہ اپنی کمترین سطح پر پہنچ گیاتھا۔

حالیہ عشروں کے دوران قطب شمالی کے وسیع برفانی سمندر آرکٹک میں صدیوں سے موجود برف کی تہیں پگھلنے کی ذمہ داری صرف انسانی سرگرمیوں پر ہی عائد نہیں ہوتی بلکہ کرہ ارض پر رونما ہونے والے قدرتی چکر بھی اس میں حصے دار ہیں۔

سائنس دانوں کے ایک گروپ کی جانب سے پیر کے روز جاری ہونے والے ایک مطالعاتی جائزے میں کہا گیا ہے کہ انسان اس چیز سے خوف زدہ ہے کہ اگلے چند برسوں میں آرکٹک اپنے برفانی لبادے سے یکسر محروم ہوجائے گا اور اس کی وجہ اس کی پیدا کردہ گلوبل وارمنگ ہوگی، لیکن اگر کرہ ارض کا فطری چکر پلٹ کر سرمائی سمت منتقل ہوجائے تو آرکٹک کے گلیشیئر پگھلنے کا عمل سست پڑ سکتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ ممکنہ طور پر آرکٹک کے علاقے میں سن 1979 کے بعد سے موسمیاتی تبدیلیوں کی 30 سے 50 فی صدتک کی ذمہ داری قدرتی اتار چڑھاؤ اور تبدیلیوں پر ہے۔

سائنسی جریدے نیچر کلائمیٹ چینج میں امریکی سائنس دانوں کے ایک گروپ کی شائع ہونے والی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ آرکٹک کا برفانی سمندر کئی عشروں سے یکساں انداز میں سکڑتا رہا ہے اور ستمبر 2012 میں وہ اپنی کمترین سطح پر پہنچ گیاتھا۔

سائنس دانوں نے یہ نتیجہ 1979 سے سیٹلایٹ سے حاصل ہونے والے اعدادوشمار کے مطالعے سے کیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مارچ کے وسط میں سن 2015 اور2016 کے موسم سرما کے مقابلے میں آرکٹک میں برف کی مقدار اپنی کمترین سطح پر دیکھی گئی۔

رپورٹ کے مصنف ژینگ ہوا ڈنگ نے، جن کا تعلق یوینورسٹی آف کیلی فورنیا سے ہے، کہا ہے کہ یہ قدرتی عمل رک سکتا ہے یا پلٹ بھی سکتا ہے جس کے بعد ہم آرکٹک میں برف پگھلنے کی رفتار سست پڑتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہاں برف کی سطح میں اضافہ ہوناشروع ہوجائے۔

لیکن یونیورسٹی آف ریڈنگ کے اسکالر ایڈ ہوکنگز کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود انسان کی جانب سے طویل عرصے تک گرین ہاؤس گیسیں پیدا کرنے کا عمل قطبی علاقوں میں برف کے پگھلاؤ ایک اہم عنصر کی حیثیت رکھتا ہے۔

ہوکنگز، جو اس مطالعاتی جائزے میں شامل نہیں تھے، کہتے ہیں کہ گرین ہاؤس گیسوں کی موجودگی میں، اگر ہم مستقل کی جانب دیکھیں تو پھر سوال یہ نہیں ہے کہ کیا ایسا ہوگا بلکہ یہ ہے کہ کس سال موسم گرما میں ہمیں آرکٹک میں برف کا ایک بھی ٹکڑا نظر نہیں آئے گا۔

آرکٹک کے علاقے میں برف کا پگھلاؤ وہاں کے آبائی باشندوں کی زندگیوں کو درہم برہم کر رہا ہے اور جنگلی حیات کو نقصان پہنچا رہا ہے، جس کی نمایاں مثالیں برفانی ریچھ اور سیل ہے۔

سن 2013 میں آب و ہوا کی تبدیلی سے متعلق سائنس دانوں کے ایک پینل نے کہا تھا کہ آرکٹک میں برف کے بڑے پیمانے پر پگھلاؤ میں امکانی طور پر انسانی ہاتھ ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا تھاکہ اگر گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج نہ روکا گیا تو اس صدی کے نصف تک آرکٹک برف سے بالکل خالی ہوجائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG