رسائی کے لنکس

سنہ 2011 میں ہونے والے شوٹنگ کے اِس واقع میں امریکی خاتون رکنِ کانگریس زخمی اور چھ افراد ہلاک ہوگئے تھے

عدالت نے اُس مسلح شخص کو جِس نے 2011ء کے شوٹنگ کے ایک واقع میں امریکی خاتون رکنِ کانگریس کو زخمی اور چھ افراد کو ہلاک کردیا تھا، مشروط رہائی کی سہولت کے بغیرعمر قید کی سزا سنائی ہے۔

جمعرات کے روز امریکہ کی مغربی ریاست ایریزونا کی ایک عدالت نے جارڈ لی لَفنر کو سات بارعمر قید کے ساتھ ساتھ 140برس جیل کی سزا سنائی۔

اگست میں استغاثہ اور ملزم کے درمیان ہونے والے ایک سمجھوتے کے تحت، اُسے موت کی سزا سے بچنے کی اجازت ملی تھی۔

شوٹنگ کا یہ واقعہ ٹوسان نامی شہر میں ہوا تھا، جس میں اُس وقت کی رکنِ ایوان نمائندگان، گیبریل گِفرڈس شدید زخمی ہوگئی تھیں۔

ایریزونا سے تعلق رکھنے والی قانون ساز، جنھیں سر میں گولی لگی تھی، صحتیابی پر دھیان مرکوز کرنے کی خاطر اِسی سال کانگریس سے مستعفی ہوگئی تھیں۔

ہلاک شدگان کے اہل خانہ کی طرح گفرڈس بھی عدالتی فیصلہ سننے کے لیے عدالت میں موجود تھیں۔

گفرڈس نے عدالتی کارروائی کے دوران 24برس کے لفنر سے جرح نہیں کی۔ تاہم، اُن کے شوہر اور سابق خلاباز مارک کیلی نے لفنر سے کہا کہ اُن کی بیوی کی زندگی ہمیشہ کے لیے تبدیل ہوکر رہ گئی ہے۔

کیلی نے کہا کہ گفرڈس ہر روز جینے کے جتن کرتی ہیں کہ وہ کام کر سکیں جو وہ کبھی خوبی کے ساتھ سرانجام دیا کرتی تھیں۔

موانیل اسٹوڈرڈ، جِن کا شوہو اُنھیں گولیوں سے بچاتے ہوئےخود ہلاک ہوگیا تھا، کہا کہ لفنر نے اُن کی زندگی، محبت اور مقصدِ حیات سب کو پاش پاش کرکے رکھ دیا۔

اسٹوڈرڈ کی بیوی شوہر کو سہارا دینے کی کوشش کر رہی تھیں کہ اُن کا دم ٹوٹ گیا۔


شوٹنگ کے اِس واقع کے بعد لفنر کو ذہنی مریض قرار دیا گیا تھا۔
XS
SM
MD
LG