رسائی کے لنکس

آرکنساس: 12 سال میں پہلی بار ایک قیدی کی سزائے موت پر عمل درآمد


فائل فوٹو

یہ اقدمات ایک ایسے وقت اٹھائے جا رہے ہیں جب عدالت نے تین قیدیوں کی موت کی سزائے پر عمل درآمد روک بھی دیا ہے۔

امریکہ کی ریاست آرکنساس نے گزشتہ 12 سالوں میں پہلی بار سزائے موت کے ایک قیدی کی سزا پر عمل درآمد کیا ہے اور یہ اقدام اس منصوبہ کا حصہ ہے جس میں مہلک دوا کے ذریعے 30 اپریل سے پہلے کئی قیدیوں کی سزائے موت پر عمل درآمد کیا جانا ہے۔

یہ اقدمات ایک ایسے وقت اٹھائے جا رہے ہیں جب عدالت نے تین قیدیوں کی موت کی سزائے پر عمل درآمد روک بھی دیا ہے۔

2005 کے بعد آرکنساس میں پہلی جس قیدی کی سزائے موت پر عمل درآمد کیا گیا اُن کا نام لیڈل لی تھا۔

51 سالہ لی کو 1993 میں اپنی ہمسائی ڈیبرا لی کو قتل کرنے کی جرم میں موت کی سزا دی گئی، اس نے ڈیبرا کو ٹائر کھولنے والے ایک اوزار کے کئی وار کر کے قتل کر دیا تھا۔

اس وقعہ کے ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں لی کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

دو مزید قیدیوں کی موت کی سزا پر پیر کو عمل درآمد کیا جائے گا جس کے بعد 21 اپریل کو ایک اور قیدی کی سزا پر عمل درآمد ہونا ہے۔

سپریم کورٹ نے لی کے سزا پر عمل درآمد کو روکنے کے لیے ان کے اٹارنی کی طرف سے آخری لمحوں میں دائر کی جانے والے درخواست بھی مسترد کر دی تھی جس کے بعد ان کی سزا پر عمل درآمد کی راہ ہموار ہو گئی۔

اس سے قبل ریاستی سپریم کورٹ کے ایک فیصلے میں عہدیداروں کو اس مہلک ٹیکے کو استعمال کرنے کی اجازت دے دی گئی، جس کے بارے میں ایک سپلائر کا کہنا ہے کہ کمپنی سے غلط بیان کر کے یہ ٹیکے حاصل کیے گئے۔

اسی دن آرکنساس کی ریاست نے ایک دوسرے قیدی اسٹیسی جانسن کی سزائے موت پر عمل درآمد ریاست کی سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد روک دیا تھا۔

یہ حکم امتناع اس لیے جاری کیا گیا تھا جانسن اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے مزید ڈی این ٹیسٹ حاصل کر سکے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG