رسائی کے لنکس

سائیکلسٹ لانس آمسٹرانگ سے ٹورڈی فرانس کے اعزازواپس

  • واشنگٹن

لانس آرمسٹرانگ

لانس آرمسٹرانگ

یوایس اے ڈی اے کی جانب سے جمعے کو جاری ہونے والی ایک خبر میں کہا گیا ہے کہ اس فیصلے کے نتیجے میں انہیں 1999ء سے 2005ء تک کے ٹور ڈی فرانس کے اعزازات سے محروم ہونا پڑے گا۔

امریکہ کے انٹی ڈوپنگ ایجنسی ( یوایس اے ڈی اے) نےامریکی سائیکلسٹ لانس آمسٹرانگ سے سات برسوں کےٹور ڈی فرانس سائنکلنگ کے اعزازواپس لے لیے ہیں۔

ان پر عائد پابندی کے تحت وہ عمر بھر اس کھیل میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔

یوایس اے ڈی اے کی جانب سے جمعے کو جاری ہونے والی ایک خبر میں کہا گیا ہے کہ اس فیصلے کے نتیجے میں انہیں 1999ء سے 2005ء تک کے ٹور ڈی فرانس کے اعزازات سے محروم ہونا پڑے گا۔

ایجنسی کا کہناہے کہ انہوں نے انٹی ڈوپنگ کی کئی خلاف ورزیاں کیں جن میں منشیات کی اسمگلنگ اور دوسروں تک ڈوپنگ کی چیزیں پہنچانا شامل ہیں۔

یوایس اے ڈی کا یہ فیصلہ 40 سالہ آمسٹرانگ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں اس نے کہاتھا کہ وہ اگرچہ ان پر عائد کیے جانے والے الزامات کو ثابت کرنے کے حقیقی شواہد موجود نہیں ہیں لیکن وہ ان الزامات کے خلاف اپنی لڑائی ختم کررہے ہیں۔

ان کے ممنوعہ اشیاء کے ڈوپنگ ٹیسٹ کے نتائج اگرچہ کبھی مثبت نہیں رہے، لیکن یوایس اے ڈی اے کا کہناہے کہ ایک درجن سے زیادہ شاہدین نے یہ گواہیاں دی ہیں کہ سٹار سائیکلسٹ نے ان اشیاء کا استعمال کیا تھا۔

آمسٹرانگ نےگذشتہ سال اپنی ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا۔اور وہ کینسر سے صحت یاب ہونے والے بہت سے لوگوں کے لیے اپنی اور اپنی فاؤنڈیشن کی خدمات کے ایک ہیرو کا درجہ رکھتے ہیں۔

یونائٹیڈ اسٹیٹ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی نے گزشتہ کئی برسوں سے سائیکلنگ ریس میں مسلسل کامیابی حاصل کرنے والے نامور سائیکلسٹ لانس آمسٹرانگ پر الزام عائد کیاتھا کہ وہ کھلاڑیوں کو ڈوپنگ کی تربیت دیتے ہیں اور ریس سے قبل منشیات کا استعمال کرتے ہیں، جس کی انہوں نے کبھی تردید نہیں کی جبکہ آرمسٹرانگ نے اینٹی ڈوپنگ ایجنسی کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی تفتیش کیلئے غیر قانونی طریقے استعمال کر رہی ہے جبکہ تحقیقات یک طرفہ اور غیر منصفانہ ہیں۔

آرمسٹرانگ کا کہنا ہے کہ وہ بے بنیاد الزامات کا سامنا کر کے تھک چکے ہیں اور اس سلسلے میں اپنا بھاری سرمایہ بھی خرچ کر چکے ہیں، لیکن اب دفاع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔

40سالہ آرمسٹرانگ اپنے کیریئر میں سات مرتبہ ٹور دی فرانس سائیکلنگ ریس جیت چکے ہیں ، جبکہ انہوں نے سال 2000ء میں برونزی میڈل حاصل کیا اور 1998ءکے بعدسے مختلف مقابلوں میں متعدد ایوارڈز اور بھاری رقم بطور انعام بھی حاصل کر چکے ہیں ۔

یونائٹیڈ اسٹیٹ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی کے چیف ایگزیکٹیو ٹریوس ٹائیگارٹ کا کہنا تھاکہ اینٹی ڈوپنگ ایکٹ کے تحت الزامات ثابت ہونے کی صورت میں آرمسٹرانگ پر تاحیات پابندی عائد کی جاسکتی ہےاور وہ کسی بھی عہدے یا اولمپکس گیمز میں بطور کوچ منتخب ہونے کے اہل نہیں رہیں گے۔

اینٹی ڈوپنگ ایجنسی نے یہ بھی کہاتھا کہ 2009اور 2010میں آرمسٹرونگ کا ڈوپنگ ٹیسٹ مثبت آیا تھا اور اس سلسلے میں آرمسٹرانگ کے قریبی ساتھی جارج ہنکیپ سمیت 10سےزیادہ عینی شاہدین نے انکے کیخلاف منشیات استعمال کرنے کی گواہی دی ہے۔

دوسری جانب آرمسٹرونگ کاکہنا ہے کہ وہ الزامات کی بوچھاڑ سے تنگ آچکے ہیں ، ٹائیگارٹ اور اینٹی ڈوپنگ ایجنسی ایک مخصوص دائرہ میں رہتے ہوئے کارروائی کر رہی ہے جبکہ الزامات سے متعلق کوئی بھی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔

ڈوپنگ ٹیسٹ مثبت آنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ گزشتہ چند برسوں سے ٹور دی فرانس سائیکلنگ مقابلوں میں تواتر سے اتھلیٹ منشیات کے استعمال میں پکڑے گئے ہیں۔ اس سے قبل امریکہ کے سائیکلسٹ فلوڈ لینڈس اور اسپین کے البرٹو کنٹیڈر بھی منشیات کے استعمال کے الزام میں مقابلوں سے باہر ہو چکے ہیں، لیکن ان میں سے کسی کا مقدمہ آرمسٹرانگ کی طرح کا نہیں تھا۔
XS
SM
MD
LG