رسائی کے لنکس

’یوم دفاع‘ پر آرمی چیف کا دورہ شمالی وزیرستان


صدر ممنون حسین نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستانی فورسز نے آپریشن ’ضرب عضب‘ میں دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ہے۔ بیان کے مطابق دہشت گردی کی اس لعنت نے گزشتہ 13 سالوں سے پاکستان کی سلامتی، امن اور معیشت کو یرغمال بنا رکھا تھا۔

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف ہفتہ کو قبائلی علاقے شمالی وزیرستان پہنچے، جہاں اُنھوں نے ملک کا ’یوم دفاع‘ دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں مصروف جوانوں اور افسروں کے ساتھ گزارا۔

چھ ستمبر 1965ء کو پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کے تناظر میں ہر سال 6 ستمبر کا یہ دن ’یوم دفاع‘ کے طور پر منایا جاتا ہے۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ کے مطابق جنرل راحیل شریف نے شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں فوجیوں سے ملاقاتیں کیں جہاں اُنھیں آپریشن سے متعلق بریفنگ دی گئی۔

افغان سرحد سے ملحقہ اس قبائلی علاقے میں 15 جون کو پاکستانی فوج نے ملکی اور غیر ملکی دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی شروع کی تھی اور اب تک حکام کے مطابق 910 سے زائد دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔

اُدھر یوم دفاع کے موقع پر صدر ممنون حسین اور وزیراعظم نواز شریف نے اپنے الگ الگ پیغامات میں کہا کہ حکومت اور عوام اپنی مسلح افواج کے پیچھے کھڑی ہیں۔

صدر ممنون حسین نے اپنے پیغام میں کہا کہ ایک ذمہ دار جوہری ملک اور بہادر افواج کے ہوتے ہوئے پاکستان ہر وقت اندرونی اور بیرونی چینلجوں سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستانی فورسز نے آپریشن ’ضرب عضب‘ میں دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ہے۔ بیان کے مطابق دہشت گردی کی اس لعنت نے گزشتہ 13 سال سے پاکستان کی سلامتی، امن اور معیشت کو یرغمال بنا رکھا تھا۔

وزیراعظم نواز شریف نے اپنے پیغام میں ملک کو درپیش مختلف چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے قومی یکجہتی، خود انحصاری اور سیاسی استحکام پر زور دیا۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان کو اندرونی اور بیرونی سطح پر کثیر الجہت چیلنجوں کا سامنا ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی نے ملک کی بنیادوں کو کمزور کیا۔

یوم دفاع کے موقع پر پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے لاکھوں افراد کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنانے کے عزم کو بھی دہرایا۔

XS
SM
MD
LG