رسائی کے لنکس

فوج نے سارجنٹ برگڈال کا کورٹ مارشل مؤخر کر دیا


بو برگڈال پر 2009 میں افغنستان میں اپنی چوکی چھوڑنے کے الزامات کے تحت اگست میں مقدمہ چلایا جانا تھا۔

بو برگڈال پر 2009 میں افغنستان میں اپنی چوکی چھوڑنے کے الزامات کے تحت اگست میں مقدمہ چلایا جانا تھا۔

ان کی دفاعی ٹیم کا کہنا ہے کہ وہ مقدمہ مؤخر کیے جانے پر پریشان ہیں کیونکہ ان کے بقول یہ مقدمہ اب اس وقت لڑا جائے گا جب نیا صدر اپنے عہدے پر فائز ہو گا۔

امریکی فوج کے سارجنٹ بو برگڈال کے فوج سے بھاگنے کے الزام میں ان کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی کو مؤخر کر دیا گیا ہے۔

تیس سالہ برگڈال پر 2009 میں افغانستان میں اپنی چوکی چھوڑنے کے الزامات کے تحت اگست میں مقدمہ چلایا جانا تھا۔ مگر شمالی کیرولائنا میں فورٹ بریگ میں فوج کے ایک جج نے اس مقدمے کو چھ ماہ کے لیے مؤخر کر دیا تاکہ قانونی ٹیموں کو مقدمہ تیار کرنے کے لیے زیادہ وقت مل سکے۔

اپنی پوسٹ چھوڑنے کے بعد برگڈال فوراً طالبان کے ہاتھوں پکڑا گیا۔ اسے گوانتانامو بے میں زیر حراست افراد سے تبادلے میں 2014 میں قید سے چھڑایا گیا۔

سارجنٹ برگڈال کے وکلا کا کہنا ہے کہ وہ اپنے یونٹ میں موجود مسائل کے بارے خبردار کرنے کے لیے یونٹ چھوڑ کر گیا۔ مگر امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان کے اس اقدام سے ان کے ساتھی فوجی سنگین خطرے سے دوچار ہو سکتے تھے۔

ان کی دفاعی ٹیم کا کہنا ہے کہ وہ مقدمہ مؤخر کیے جانے پر پریشان ہیں کیونکہ ان کے بقول یہ مقدمہ اب اس وقت لڑا جائے گا جب نیا صدر اپنے عہدے پر فائز ہو گا۔

ان کے بقول ممکنہ ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی وجہ سے یہ کیس خراب ہو سکتا ہے جنہیں برگڈال نے ’’غدار‘‘ کہا تھا جنہیں سزائے موت دی جانی چاہیئے۔

ڈیموکریٹک پارٹی کی صف اول کی امیدوار ہلری کلنٹن نے کورٹ مارشل پر کھل عام تبصرہ نہیں کیا مگر انہوں نے اس وقت قیدیوں کے تبادلے کا دفاع کیا تھا۔

XS
SM
MD
LG