رسائی کے لنکس

اسکول سانحہ: فائرنگ کی آوازیں، دھماکے، پریشان والدین

  • شہناز نفيس

فائل

فائل

’اچانک، فائرنگ بہت تیز ہوگئی۔ ایسے میں، فوجی کچھ بچوں کو سینئر سیکشن سے چھڑا لائے تھے، جن میں، خوش قسمتی سے، موسیٰ بھی شامل تھا‘

نادیہ بیگم، ایڈورڈ کالج پشاور میں مطالعہٴ پاکستان کی لیکچرر ہیں۔ اُن کے دو بچے، عیسیٰ اور موسیٰ، آرمی پبلک اسکول پشاور کے جونئیر اور سینئر سیکشنز میں پڑھتے ہیں۔

جمعرات کو ’وائس آف امریکہ‘ سے خصوصی انٹرویو میں، نادیہ نے بتایا کہ جیسے ہی آرمی پبلک اسکول پر حملے کی خبر ٹیلی ویژن پر نشر ہوئی، جن خاندانوں کے بچے وہاں پڑھتے ہیں، وہ اسکول کی طرف دوڑے۔

اُنھوں نے کہا کہ اُنھیں اِس بات کی اُن کے شوہر نے ٹیلی فون پر اطلاع دی تھی۔

نادیہ نے بتایا کہ اسکول پہنچنے پر، اُنھوں نے دیکھا کہ ’پلے گروپ سے پانچویں جماعت کے بچے‘ بخیریت ڈفینس پارک میں لائے جا چکے ہیں؛ جب کہ سینئر بچوں کا سیکشن سخت گھیرے میں تھا، جہاں سے گولیاں چلنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔

چھوٹے بچے، عیسیٰ کے بارے میں اُنھوں نے بتایا کہ وہ تو جاتے کے ساتھ ہی اُنھیں مل گیا۔ لیکن، موسیٰ سینئر سیکشن میں تھا۔

اچانک، فائرنگ بہت تیز ہوگئی۔ ایسے میں، فوجی کچھ بچوں کو سینئر سیکشن سے چھڑا لائے تھے، جن میں، خوش قسمتی سے، موسیٰ بھی شامل تھا۔

’جونہی میں نے موسیٰ کو گلے لگایا، اسکول میں ایک بڑا دھماکہ ہوا، جس میں، زیادہ بربادی ہوئی‘۔

تفصیل سننے کے لیے آڈیو رپورٹ پر کلک کیجئیے:

XS
SM
MD
LG