رسائی کے لنکس

پاکستانی کشمیر میں انتخابات فوج کی نگرانی میں ہوں گے

  • روشن مغل

فائل فوٹو

فائل فوٹو

پاکستانی کمشیر کے الیکشن کمیشن کے عہدیدار کے مطابق انتخابات کو تاریخ کے شفاف ترین انتخابات بنانے کے لیے نئے سرے سے انتخابی فہرستوں کی تیاری سمیت متعد د اقدامات کیے گئے ہیں۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیرکی قانون ساز اسمبلی کے لیے انتخابات 21 جولائی کو ہونے جا رہے ہیں جن کے پرامن ماحول میں شفاف اور آزادانہ طور پر یقینی انعقاد کے لیے فوج تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

حکام نے بتایا کہ اس ضمن میں فوج کے 17000 جبکہ فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پنجاب کانسٹیبلری کے چار، چار ہزار، خیبرپختونخواہ پولیس کے 2000 اہلکار تعینات کیے جائیں گے جبکہ پاکستانی کشمیر پولیس کے 5200 افسران اور جوانوں پر مشتمل نفری بھی انتخابی عمل کے دوران موقع پر رہ کر امن وامان کو یقینی بنانے کے فرائض سرانجام دے گی۔

حالیہ دنوں میں انتخابی مہم کے دوران تشدد کے واقعات بھی رونما ہو چکے ہیں جس کی وجہ دے مخالفین کے درمیان کشیدگی بھی پائی جاتی ہے۔

انتخابی عمل کے دوران پریذائڈنگ افسران کو مجسٹریٹ کے اختیارات تفویض ہوں گے۔ کشمیر میں تقریباً 4459 پولنگ سٹیشنز پرانتخابات کے لیے متعلقہ ریٹرننگ افسران کو انتخابی مواد اور 7000 بیلٹ بکسز پہنچا دیے گئے ہیں جبکہ مہاجرین کے حلقہ جات کے1087پولنگ سٹیشنزکے لیے بیلٹ بکسز اور پولنگ میٹریل بھی پہنچایا جا رہا ہے۔

پاکستانی فوج اپنی ذمہ داریاں 16 جولائی سے سنبھال لے گی۔

پاکستانی کشمیر کے الیکشن کمیشن کے عہدیدار طارق بٹ نے وائس آف امریکہ کو انتخابات کے انعقاد کے لیے کیے گئے اقدامات کے بارے میں بتایا کہ انتخابات کو تاریخ کے شفاف ترین انتخابات بنانے کے لیے نئے سرے سے انتخابی فہرستوں کی تیاری سمیت متعد د اقدامات کیے گئے ہیں۔

اس دوران چیف الیکشن کمشنر غلام مصطفیٰ مغل نے تمام وزرا اور حکومت کے مشیروں، معاونین خصوصی کو انتخابی مہم میں کسی بھی طرح سرکاری وسائل استعمال کرنے سے منع کر دیا ہے۔

علاوہ ازیں کوئی بھی انتخابی امیدوار اپنی تشہیری مہم اور مواد میں پاکستانی فوج کے سربراہ یا جوانوں کی تصاویر استعمال نہیں کرے گا کیونکہ اس سے فوج کی غیرجانبداری متاثر ہو سکتی ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے 29 انتخابی حلقے تمام دس اضلاع میں ہیں جب کہ 12 حلقے پاکستان کے چاروں صوبوں میں مقیم بھارت کے زیر انتظام کمشیر سے ہجرت کر کے آنے والے مہاجرین کے لیے مختص ہیں۔

XS
SM
MD
LG