رسائی کے لنکس

اٹلی: کشتی سے 30 تارکینِ وطن کی لاشیں برآمد


فائل

فائل

اطالوی بحریہ کے مطابق خدشہ ہے کہ ان افراد کی ہلاکت کشتی پر گنجائش سے زیادہ مسافر بھرنے کے نتیجے میں دم گھٹنے کے باعث ہوئی ہے۔

اٹلی میں حکام نے غیر قانونی پناہ گزینوں سے لدی ایک کشتی سے 30 لاشیں برآمد کی ہیں جب کہ خستہ حال کشتیوں پر سوار مزید پانچ ہزار افریقی تارکینِ وطن کو حراست میں لے لیا ہے۔

اٹلی کی بحری افواج نے پیرکو جاری کیے جانے والےا یک بیان میں کہا ہے کہ لاشیں اتوار کو کیے جانے والے امدادی آپریشن کے دوران ایک کشتی سے برآمد کی گئیں جس پر افریقہ سے غیر قانونی طور پر یورپ آنے والے ساڑھے پانچ سو سے زائد تارکینِ وطن سوار تھے۔

بیان کے مطابق خدشہ ہے کہ ان افراد کی ہلاکت کشتی پر گنجائش سے زیادہ مسافر بھرنے کے نتیجے میں دم گھٹنے کے باعث ہوئی ہے۔

اطالوی بحریہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اختتامِ ہفتہ پر کی جانے والی کارروائی کے دوران خستہ حال کشتیوں پر سوار مزید پانچ ہزار تارکینِ وطن کو حراست میں لے کر ساحل منتقل کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ ہر سال ہزاروں افریقی باشندے جنگ، غربت اور سیاسی عدم استحکام سے تنگ آکر سنہری مستقبل کی تلاش میں غیر قانونی طور پر سمندری راستے سے یورپ کا رخ کرتے ہیں اور راستے میں پڑنے والا اٹلی ان کا پہلا پڑاؤ ہوتا ہے۔

گزشتہ برس اٹلی کے ساحل کے نزدیک بحیرہ روم میں غیر قانونی تارکینِ وطن کی دو کشتیاں ڈوبنے کے نتیجے میں 400 افراد ہلاک ہوگئے تھے جس کےبعد اٹلی کی حکومت نے ان تارکینِ وطن کو بچانے کے لیے مستقل بنیادوں پر امدادی آپریشن کا آغاز کیا تھا۔

'میرے نوسٹرم' یا 'ہمارا سمندر' نامی یہ آپریشن یورپ کا سب سے بڑا 'سرچ اینڈ ریسکیو' آپریشن ہے جس پر ہر ماہ 90 لاکھ یورو خرچ ہورہے ہیں۔

اٹلی کے حکام کے مطابق رواں سال اب تک اٹلی کے ساحل پر 55 ہزار غیر قانونی تارکینِ وطن پہنچ چکے ہیں جن کی اکثریت کا تعلق افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ سے ہے۔

سمندر کے راستے یورپ جانے کی کوشش کرنے والے غیر قانونی افریقی تارکینِ وطن کا پہلا پڑاؤ اٹلی ہوتا ہے

سمندر کے راستے یورپ جانے کی کوشش کرنے والے غیر قانونی افریقی تارکینِ وطن کا پہلا پڑاؤ اٹلی ہوتا ہے

تارکینِ وطن کی یہ تعداد 2013ء میں غیر قانونی طریقے سے اٹلی آنے کی کوشش کرنے والے افراد کی کل تعداد سے بھی زیادہ ہے۔

ان میں سے بیشتر تارکینِ وطن کو اٹلی کے جزیرے سسلی میں رکھا گیا ہے جہاں کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ اب مزید تارکینِ وطن کا بوجھ نہیں سہار سکتے۔

اٹلی کی حکومت نے یورپی یونین کے رکن ملکوں سے مطالبہ کر رکھا ہے کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر اٹلی پہنچنے والے ان تارکینِ وطن کا بوجھ بانٹنے میں اس کی مددکریں۔

آئندہ ہفتے اٹلی کے شمالی شہر میلان میں یورپی ممالک کے وزرائے داخلہ کا اجلاس بھی ہورہا ہے جس میں غیر قانونی تارکینِ وطن کے مسئلے اور ان سے نبٹنے کے طریقوں پر غور کیا جائے گا۔

اطالوی اور یورپی حکام کا کہنا ہے کہ اٹلی کے مقابل واقع افریقی ملک لیبیا میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال اور ساحلی علاقوں اور بندرگاہوں پر مرکزی حکومت کی کمزور گرفت کے باعث وہاں سے یورپ کے لیے روانہ ہونے والی غیر قانونی تارکینِ وطن کی کشتیوں میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے۔

گزشتہ ہفتے اٹلی کے وزیرِاعظم میٹیو رینزی نے اقوامِ متحدہ سے مطالبہ بھی کیا تھا کہ وہ لیبیا میں مداخلت کرے جہاں اسمگلرز ایک ہزار ڈالر کے عوض افریقی تارکینِ وطن کو یورپ پہنچانے کا جھانسا دے کر لوٹتے ہیں اور انہیں خستہ حال کشتیوں پر سوار کراکے سمندر کے حوالے کردیتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG