رسائی کے لنکس

حملہ آوروں کی گرفتاری پاکستان کے لیے ’اُمید‘ ہے: ملالہ کے والد


ملالہ اور ان کے والد ضیا الدین یوسفزئی (فائل)

ملالہ اور ان کے والد ضیا الدین یوسفزئی (فائل)

ملالہ یوسفزئی کی ویب سائیٹ پر اُن کے والد ضیاالدین یوسفزئی نے ایک بیان میں کہا کہ حملہ آوروں کی گرفتاری قانون کی عمل داری کے قیام کی جانب اہم موڑ ہے۔

برطانیہ میں مقیم پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی کے والد نے اپنی بیٹی پر حملہ کرنے والے گروپ کی گرفتاری کو ملک کے لیے ’’اُمید کی حقیقی شروعات‘‘ قرار دیا۔

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ نے جمعہ کو کہا تھا کہ ملالہ یوسفزئی پر حملہ کرنے والے گروپ میں شامل 10 شدت پسندوں کو گرفتار کر لیا گیا۔

بچوں کی تعلیم کے لیے آواز بلند کرنے والی ملالہ یوسفزئی کو اُن کے آبائی علاقے سوات میں اکتوبر 2012ء میں طالبان نے سر میں گولی مار کر زخمی کر دیا تھا۔

پاکستان میں ابتدائی علاج کے بعد ملالہ کو برطانیہ منتقل کیا گیا جہاں وہ اب بھی مقیم ہیں۔

ملالہ یوسفزئی کی ویب سائیٹ پر اُن کے والد ضیاالدین یوسفزئی نے ایک بیان میں کہا کہ حملہ آوروں کی گرفتاری قانون کی عمل داری کے قیام کی جانب اہم موڑ ہے۔

’’یہ حکومت کی عمل داری کی شروعات کی جانب حقیقی پیش رفت ہے، جہاں قانون کی عمل داری اور انصاف سب کے لیے ہو۔‘‘

ملالہ بچوں کی تعلیم کے لیے آواز بلند کرنے پر ’نوبل امن انعام‘ کے لیے بھی نامزد ہو چکی ہیں۔

پاکستانی فوج کے مطابق ملالہ پر حملہ ’شوریٰ‘ نامی ایک گروہ نے کیا جو تحریک طالبان پاکستان کے موجودہ سربراہ ملا فضل اللہ کی ہدایات پر عمل کرتا تھا۔

XS
SM
MD
LG