رسائی کے لنکس

یہ نمائش ریاست پنسلوانیا میں منعقد ہوئی، جسے، منتظمین کے مطابق، خاصی پذیرائی ملی

کہتے ہیں کہ ایک تصویر ہزار الفاظ کے برابر ہوتی ہے۔ اگر یہ سچ ہے تو پچھلے دِنوں ایک پاکستانی فوٹوگرافر کی تصاویر کی امریکہ میں نمائش نے وہاں لوگوں کوپاکستان کےبارے میں کیا کچھ آگاہی دی۔

یہ نمائش ریاست پنسلوانیا میں منعقد ہوئی، جسے، بتایا جاتا ہے، کہ خاصی پذیرائی ملی۔ نمائش کی منتظم، ڈاکٹر منیزا شاہ ایک پاکستانی ڈاکٹر ہیں جو کہ پچھلے 18 سال سے امریکہ میں مقیم ہیں اور وہاں ایک ماہر نفسیات کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی ہیں۔

ڈاکٹر منیزا شاہ نے ذہنی امراض میں مبتلا افراد کے علاج سے متعلق اپنی کمپنی ’زیلرز ایل ایل سی‘ کے افتتاح کے موقع پر سئیر منشن بتھلیھیم میں کراچی سے تعلق رکھنے والے فیصل سایانی کی کھینچی ہوئی تصاویر کی نمائش میں بولتے ہوئے، اِس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ سائنس سے لے کر فن تک پاکستان میں موجود ٹیلنٹ کو دنیا کے سامنے لانے کی کوشش جاری رکھیں گی۔

’وائس آف امریکہ‘ سےبات کرتے ہوئے، ڈاکٹر صاحبہ کا کہنا تھا کہ اِس نمائش سے اُنھیں یہ موقع ملا کہ وہ دنیا پر یہ بات واضح کر سکیں کہ پاکستان انتہا پسندی کا مسکن نہیں، بلکہ، اُن کے بقول، ’یہاں پڑھے لکھے، رواداری پر ایمان رکھنے والے اور دوستی کے جذبات سے سرشار لوگ بھی رہتے ہیں‘۔ اور، اُن کے بقول، ’اِن لوگوں کو موقع ملے تو وہ عالمی سطح پر بہت کچھ کر کے دکھا سکتے ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی فنکار ،فیصل سایانی اور اُن کے فن کو امریکہ میں اُن کی توقعات سے بڑھ کر پذیرائی ملی وہ اور کسی امریکی فنکار کو پاکستان آنے کی دعوت دینے پر بھی غور کر رہی ہیں۔

فیصل سایانی ایک صحافی ہیں جو کہ پاکستان کہ ایک صفحہ اول کے نیوز چینل میں پروگرامنگ کے سربراہ ہونے کے ساتھ ساتھ فوٹوگرافی کا بھی شوق رکھتے ہیں۔

اُنھوں نے ’وائس آف امریکہ‘ سےخصوصی گفتگو میں کہا کہ اُن کی تصاویر کی امریکہ میں نمائش کےموقع پر اُن کی وہاں پاکستانیوں اور امریکیوں سے ملاقات میں انھوں نے دونوں ممالک کے لوگوں کی آپس میں ملاقات کی اہمیت کو سمجھا ہے اور وہ مستقبل میں بھی اِس طرح کی نمائش کے لئے وہاں جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

فیصل نے کہا کہ انھوں نے قدرتی مناظراور پاکستانی کلچرکو فوٹوگرافی کی مختلف تکنیکوں سے محفوظ کیا اور ان کی تصاویر کی نمائش میں تجربہ کار فوٹوگرافروں کی آمد اور ان کی طرف سے سراہے جانے سے ان کی بہت حوصلہ افزائی ہوئی اور صرف تین گھنٹوں کی اس نمائش میں ایک تہائی تصاویر بک گئیں اور دیگر تصاویر کی نمائش کے لئے ایک ویب سائٹ بنائی جا رہی ہے، جبکہ کچھ تصاویر تو امریکہ میں مختلف اسپتالوں کو تحفے کے طور پر بھی دی جائیں گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نجی اور حکومتی سطح پر فن اور فنکاروں کے ایسے تبادلوں سے دونوں ممالک کی عوام کو خبروں سے ہٹ کر ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع ملے گا جس سے دونوں ممالک میں ایک دوسرے کے لئے پائی جانے والی منفی سوچ میں کمی لائی جا سکتی ہے۔
XS
SM
MD
LG