رسائی کے لنکس

غیر قانونی طور پر مقیم پاکستانیوں کو عارضی قانونی حیثیت دلوانے کی کوششیں


غیر قانونی طور پر مقیم پاکستانیوں کو عارضی قانونی حیثیت دلوانے کی کوششیں
غیر قانونی طور پر مقیم پاکستانیوں کو عارضی قانونی حیثیت دلوانے کی کوششیں

امریکی قوانین کے مطابق دنیا کے کسی حصے میں قدرتی آفت، جنگ یا کسی ناگہانی آفت آنے کی صورت میں اس ملک کے امریکہ میں غیر قانونی طور پر مقیم شہریوں کو عارضی طور پر قانونی حیثیت دے دی جاتی ہے۔

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے امریکہ میں غیر قانونی طور پر مقیم پاکستانیوں کو عارضی قانونی حیثیت دلوانے کے معاملے پر امریکہ میں عوامی نیشنل پارٹی( اے این پی) کے صدر اقبال خان کو چند افراد کے ساتھ ملاقات کی دعوت دی ہے۔

اس سے قبل اتوار کی دوپہر اسی سلسلے میں نیو یارک کے علاقے کوئینز میں عوامی نیشنل پارٹی کی مقامی برانچ نے ایک آل پارٹیز کانفرنس بلائی جس میں پاکستان کی مختلف سماجی و سیاسی جماعتوں کے مقامی نمائندے شریک تھے۔

غیر قانونی طور پر مقیم پاکستانیوں کو عارضی قانونی حیثیت دلوانے کی کوششیں
غیر قانونی طور پر مقیم پاکستانیوں کو عارضی قانونی حیثیت دلوانے کی کوششیں

امریکی قوانین کے مطابق دنیا کے کسی حصے میں قدرتی آفت، جنگ یا کسی ناگہانی آفت آنے کی صورت میں اس ملک کے امریکہ میں غیر قانونی طور پر مقیم شہریوں کو عارضی طور پر قانونی حیثیت دے دی جاتی ہے۔

ٹیمپریری پروٹیکٹڈ سٹیٹس یا ٹی پی ایس کہلانے والی یہ عارضی حیثیت ملنے والے لوگ قانونی طور پر امریکہ میں نوکری یا کاروبار کر سکتے ہیں اور انہیں وہ تمام حقوق حاصل ہوتے ہیں جو قانونی طور پر امریکہ میں مقیم لوگوں کو حاصل ہوتے ہیں۔

پاکستان میں جولائی کے اواخر سے آنے والے سیلاب اور ان سے پھیلنے والی تباہی کے بعد امریکہ میں پاکستانی سیاسی و سول جماعتوں اور پاکستانی وکلاء کی تنظیم ٹاسک نے غیر قانونی پاکستانیوں کو امریکی میں ٹی پی ایس دلوانے کے لیے آواز اٹھائی ہے۔

امریکہ نے جنوبی امریکی ملک ہیٹی میں تباہ کن زلزلے کے بعد اس کے شہریوں کو امریکہ میں ٹی پی ایس دیا تھا۔ اسی طرح السیلواڈور، نکاراگوا، ہنڈورس، سوڈان اور صومالیہ ان ممالک میں شامل ہیں جن کے شہریوں کو حال ہی میں ٹی پی ایس دیا گیا ہے۔

ٹی پی ایس کا قانون 1990 میں بنایا گیا تھا اور اس سے سب سے پہلے فائدہ اٹھانے والا ملک لبنان تھا۔

اس معاملے پر آواز اٹھانے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ امریکہ میں بہت سے ایسے پاکستانی مقیم ہیں جنہوں نے سالوں سے اپنے رشتہ داروں کی شکل نہیں دیکھی۔ انہیں عارضی طور پر ہی صحیح، قانونی حیثیت مل جائے تو وہ پاکستان واپس جا کر نہ صرف اپنے خاندان والوں سے مل سکتے ہیں بلکہ سیلاب سے ہونے والی تباہی کے بعد انہیں دوبارہ اپنی زندگی استوار کرنے یا کسی محفوظ مقام پر منتقل کرنے میں مدد بھی کر سکتے ہیں۔

انسانی بنیادوں پر پاکستانیوں کے لیے مدد مانگنے کی اس کوشش میں پاکستانی وکلاء نے ایک تنظیم ٹاسک بنائی ہے جس کی طرف سے امریکی انتظامیہ کو خطوط بھی لکھے گئے ہیں۔

اے این پی کے سیکرٹری اطلاعات اقبال کا کہنا تھا کہ ٹی پی ایس حاصل کرنے کے لیے امریکی حکومت کی توجہ حاصل کرنے کے تین طریقے ہیں۔

ایک طریقہ یہ ہے کہ بیس ہزار افراد ایک درخواست پر دستخط کریں جو امریکی حکومت کے سامنے پیش کی جائے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ وائٹ ہاؤس کے سامنے کم از کم ایک ہزآر افراد مل کر مظاہرہ کریں اور تیسرا طریقہ یہ ہے کہ پاکستانی حکومت امریکہ کو اس سلسلے میں درخواست دے۔

میٹنگ کے اختتام پر ایک پولیٹیکل ایکشن کمیٹی بنائی گئی جو اس معاملے کو مزید آگے بڑھائے گی۔

XS
SM
MD
LG