رسائی کے لنکس

امریکہ: اسلحے کی میکسیکو اسمگلنگ کے معاملے کی ناکام تحقیقات کے اثرات


امریکہ: اسلحے کی میکسیکو اسمگلنگ کے معاملے کی ناکام تحقیقات کے اثرات
امریکہ: اسلحے کی میکسیکو اسمگلنگ کے معاملے کی ناکام تحقیقات کے اثرات

امریکی اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر نے کہا ہے کہ امریکہ اور میکسیکو کی سرحدوں پر ہونے والی ہتھیاروں کی اسمگلنگ کے معاملے کی ناکام تحقیقات کے اثرات آئندہ کئی برسوں تک محسوس کیے جاتے رہیں گے۔

منگل کو امریکی سینیٹ کے کمیٹی برائے عدالتی امور کی جانب سے کی جانے والی ایک سماعت کے دوران بیانِ حلفی دیتے ہوئے اٹارنی جنرل نے کہا کہ 'فاسٹ اینڈ فیوریس' نامی اس تحقیقاتی مشن کا مقصد اس اسلحے کا سراغ لگانا تھا جسے امریکہ سے خرید کر میکسیکو اسمگل کردیا جاتا ہے۔

شراب، تمباکو، اسلحہ اور گولہ بارود سے متعلق امریکی ایجنسی کے اہلکاروں نے سماعت کے دوران قانون سازوں کو بتایا کہ انہیں ان کے افسران نے حکم دیا تھا کہ وہ اسلحے کے ایسے خریداروں کے خلاف کاروائی نہ کریں جن پر شبہ تھا کہ وہ یہ اسلحہ میکسیکو کے منشیات فروش گروہوں کو فراہم کرنے کے لیے خرید رہے ہیں۔

اہلکاروں نے بتایا کہ انہیں ہدایت کی گئی تھی کہ وہ ایسے خریداروں کو حراست میں لینے کے بجائے اس بات کا سراغ لگائیں کہ ان کا خریدا گیا اسلحہ کہاں جارہا ہے۔

واضح رہے کہ اسلحے کی اس کھیپ میں خریدی گئی دو بندوقیں بعد ازاں امریکی ریاست ایریزونا میں ہونے والی ایک واردات میں استعمال کی گئی تھیں جس میں امریکہ کا ایک سرحدی محافظ ہلاک ہوگیا تھا۔

دورانِ سماعت امریکی اٹارنی جنرل نے اس طرح سے "اسلحہ لے کر غائب ہوجانے" کے واقعات کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ایسا پھر دوبارہ کسی قیمت پر نہیں ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ اسکینڈل سے اس حقیقت کا اظہار ہوتا ہے کہ امریکہ غیرقانونی اسلحہ کی میکسیکو منتقلی روکنے میں ناکام ہورہا ہے۔

امریکی عہدیداران کے ان انکشافات نے کئی اراکینِ کانگریس کو سیخ پا کردیا ہے جو معاملے کی تحقیقات میں ناکامی پر اٹارنی جنرل کے استعفی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG