رسائی کے لنکس

افغان صدر نے بین الاقوامی خوشنودی کی ضرورت کو ردّ کردیا


افغان صدر حامد کرزئى نے کہا ہے کہ انہیں بین الاقوامی برادری کی رضامندی کی ضرورت نہیں ہے۔ مسٹر کرزئى نے جمعے کے روز الجزیرہ کو ایک انٹرویو دیتے ہوئےاپنے ریکارڈ کی صفائى پیش کی اور کہا کہ افغانستان جمہوریت کے لیے ایک ”اچھا ماڈل“ ہے۔

گذشتہ اگست میں دھاندلیوں کی بھر مار اور فراڈ سے داغ دار صدارتی انتخاب میں مسٹر کرزئى کی کامیابی کے بعد مغربی ملک اُن پرزور دیتے رہے ہیں کہ وہ افغان حکومت کے اندر بد عنوانیوں کو ختم کریں۔

مسٹر کرزئى نے کہا کہ اگرچہ بہت سے ملکوں کی فوجیں افغانستان میں تعینات ہیں لیکن انہوں نے کہا”مجھے اُن کی خوشنودی حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے“۔

افغان لیڈر نے کہا کہ اُن کی حکومت دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں اور تحفظ اور سلامتی کو فروغ دینے کے لیے بین الاقوامی فوجوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔

مسٹر کرزئى نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ لندن میں عن قریب ہونے والی ایک کانفرنس میں بین الاقوامی برادری سے مزید رقم کی درخواست نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اس کی بجائےوہ ان ملکوں سے کہیں گے کہ وہ افغان لوگوں کی گرفتاریاں بند کریں اور عام شہریوں کے جانی نقصان میں کمی لائیں۔

اس وقت افغانستان میں امریکہ اور نیٹو کے رکن دوسرے ملکوں کی ایک لاکھ سے زیادہ فوجیں تعینات ہیں۔

XS
SM
MD
LG