رسائی کے لنکس

تقسیم ہند کے بعد لاھور میں ہندووں کا پہلا شمشان گھاٹ

  • افضل رحمٰن

تقسیم ہند کے بعد لاھور میں ہندووں کا پہلا شمشان گھاٹ

تقسیم ہند کے بعد لاھور میں ہندووں کا پہلا شمشان گھاٹ

متروکہ وقف املاک بورڈ نے چونتیس کنال اراضی تو دے دی ہے مگر وہاں نہ کوئی ہال ہے اور نہ برآمدہ

قیام پاکستان سے قبل لاھور میں ہندووں اور سکھوں کی بڑی تعداد مقیم تھی اوراُنیس سو سینتالیس سے پہلے اس شہر میں ہندووں کے تیرہ شمشان گھاٹ تھے جہاں پر آخری رسوم ادا کرنے کے بعد چتائیں جلائی جاتی تھیں۔ تقسیم ِ ہند کے بعد جب آبادی تقسیم ہوگئی تولاھور میں ایک بھی شمشان گھاٹ نہ رہا۔

قیامِ پاکستان کے چند برس بعد سے لاھور میں ہندو گھرانے آباد ہونا شروع ہوگئے تھے اور انہوں نے اپنی پوجا پاٹ کے لیے کرشنا مندر کے نام سے راوی روڈ لاھور پر ایک مندر بھی بنالیا تھا تاہم ان کی تعداد اب بھی خاصی محدود ہے۔

کرشنا مندر کے انتظامی بورڈ کے سربراہ ڈاکٹر منوہر چاند نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ لاھور میں مقیم ہندووں کا دیرینہ مطالبہ تھا کہ اُن کے لیے یہاں شمشان گھاٹ قائم کیا جائے۔ اس کو اگرچہ دو برس پہلے تسلیم کرتے ہوئے متروکہ وقف املاک بورڈ نے بابو صابو چوک کے قریب چونتیس کنال اراضی تو دے دی ہے مگر وہاں ابھی تک نہ کوئی ہال بنایا گیا ہے اور نہ برآمدے تعمیر کیے گئے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ آخری رسوم کے لیے ہال بہت ضروری ہوتا ہے اور چتا کی لکڑی رکھنے کے لیے کم از کم برآمدے تو ہونا ہی چاہیں۔ ڈاکٹر منوہر چاند کا کہنا تھا کہ متروکہ وقف املاک بورڈ نے وعدہ تو کر رکھا ہے اب دیکھیں وہ کب پورا ہوتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ آٹھائیس فروری کو ہولی کا تہوار آرہا ہے اور اس موقع پر متروکہ وقف املاک بورڈ کے عہدیداروں سے اُن کی جو ملاقات ہوگی اُس میں وہ یقیناّ اُن کو اپنا وعدہ یاد دلائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر چاند نے کہا کہ یہ سہولتیں نہ ہونے کے باوجود بھی اب تک تین مرنے والے ہندووں کی آخری رسوم اس شمشان گھاٹ میں ادا کی جاچکی ہیں اور یہیں اُن کی چتائیں بھی جلائی گئی تھیں۔

لاھور میں سکھ مذہب سے تعلق رکھنے والے کئی خاندان آباد ہیں اور اس مذہب کے ماننے والے بھی اپنے مرنے والوں کی چتا ہی جلاتے ہیں۔ تقسیمِ ہند سے پہلے سکھوں کے شمشان گھاٹ جن کو "مڑی" کہا جاتا ہے الگ ہوتے تھے۔ ڈاکٹر منوہر چاند کا کہنا تھا کہ سکھ بھی اس شمشان گھاٹ کو استعمال کرسکتے ہیں۔ اُنہوں نے بتایا کہ ہندووں کی رسوم میں اگر گیتا کا پاٹھ ہوتا ہے تو سکھ ایسے موقعوں پر گرنتھ صاحب کا پاٹھ کرتے ہیں باقی سب کچھ اُن کے بقول ایک جیسا ہوتا ہے۔


لاھور میں واقع کرشنا مندر کے پجاری نے شمشان گھاٹ کے حوالے سے ایک انٹرویو میں وائس آف امریکہ کو بتایا کہ آخری رسوم کے لیے اُن کو بھی بلایا جاتا ہے جب کہ اُن کے بقول لاھور میں اور پجاری بھی ہیں جو آخری رسوم کے لیے شمشان گھاٹ جاتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں اُنہوں نے کہا کہ جب لاھور میں شمشان گھاٹ نہیں تھا تو یہاں موجود ہندو، سکھ اپنے مرنے والوں کو ننکانہ صاحب لے کر جاتے تھے۔ جو ہندو ، سکھ اخراجات برداشت نہیں کرسکتے تھے وہ غریب مجبوری میں چتا جلانے کی بجائے اپنے مرنے والوں کو لاھور ہی میں دفن کردیتے تھے۔

واضح رہے کہ سکھ مذہب کے بانی بابا گرونانک کی جائے پیدائش ننکانہ صاحب میں آخری رسوم ادا کرنے اور چتا جلانے کے لیے شمشان گھاٹ کافی عرصہ سے موجود ہے۔

XS
SM
MD
LG