رسائی کے لنکس

امریکہ پر تنقید: ہلری کلنٹن کی برہمی


ایک امریکی اہل کار ایک زخمی بچی کو ہسپتال لے جا رہا ہے

ایک امریکی اہل کار ایک زخمی بچی کو ہسپتال لے جا رہا ہے

امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن کا کہنا ہے کہ ہیٹی کے زلزلہ زدگان کے لیے امریکہ کی طرف سے کی جانے والی مدد پر غیر ملک میں کی جانے والی نکتہ چینی پر اُنھیں انتہائی افسوس ہوا ہے۔

منگل کے روز امریکی محکمہٴ خارجہ سے خطاب میں کلنٹن نے کہا کہ بین الاقوامی پریس کے چند ارکان کی طرف سے ہیٹی کے زلزلہ زدگان کی بدترین صورتِ حال کے پیشِ نظر دی جانے والی شہری اور فوجی امداد کو غلط تاثر سے پیش کیا ہے۔ اِس وقت پورٹ او پرنس اور آس پاس امریکہ کے 15 ہزار فوجی موجود ہیں جب کہ مزید وہاں پہنچنے والے ہیں۔

کلنٹن نے مزید کہا کہ قدرتی آفت سے نبرد آزما ہونے میں مدد دینے کے لیے امریکہ ترقی اور ڈپلومیسی کو ایک ساتھ استعمال میں لایا۔

ادھر ہیٹی میں امریکی فوج کی طرف سےامدادی کام کے سربراہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ دارالحکومت میں ہیٹی کے لوگوں نے امریکی افواج کا خیر مقدم کیا ہے، اور یہ کہ امریکہ نے پانی کی دس لاکھ بوتلیں اور دس لاکھ کھانوں کے تھیلے تقسیم کیے ہیں۔

بارہ جنوری کو آنے والے زلزلے کے نتیجے میں صرف پورٹ او پرنس میں دس لاکھ کے قریب لوگ بے گھر ہو گئے ہیں اور متعدد متاثرین کو امداد کی شدید ضرورت ہے۔ زلزلے میں ہیٹی کے دو لاکھ کے قریب افراد ہلاک ہوئے اور دارالحکومت کا زیادہ حصہ ملبے کا ڈھیر بن کر رہ گیا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل کین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور دوسرے امدادی ادارے آئندہ چند ہفتوں کے دوران ہسپتال کی عمارت تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ بحری جہاز ‘یو ایس کمفرٹ’ میں قائم ہسپتال میں داخل مریضوں کی طویل مدت کی طبی دیکھ بھال کو یقینی بنایا جاسکے۔

اُنھوں نے اِس امید کا اظہار کیا کہ بالآخر وہ اِس ہسپتال کی گنجائش پانچ ہزار بستروں تک بڑھا دیں گے۔

ہیٹی کے صدر رینی پریوال نے زلزلے سے بے گھر لوگوں کی مدد کے لیے مزید دو لاکھ خیمے مہیا کرنے کی درخواست کی ہے۔

XS
SM
MD
LG