رسائی کے لنکس

گیارہ ، گیارہ اور گیارہ ۔۔۔ شادی کو یادگار بنانے کیلئے ہزاروں افراد کی لائنیں لگ گئیں


گیارہ ، گیارہ اور گیارہ ۔۔۔ شادی کو یادگار بنانے کیلئے ہزاروں افراد کی لائنیں لگ گئیں

گیارہ ، گیارہ اور گیارہ ۔۔۔ شادی کو یادگار بنانے کیلئے ہزاروں افراد کی لائنیں لگ گئیں

جمعہ 11نومبر 2011ء کا دن دنیا کے اکثر ممالک کے شہریوں کے لئے خاصی دلچسپی کا حامل رہا۔ دلچسپی کی پہلی وجہ تو یہی تھی کہ اس تاریخ میں ایک (1)کے ہندسے کی بار بار تکرار ہورہی ہے یعنی 111111۔گیارہ تاریخ ،گیارہواں مہینہ اور سن دوہزار کا گیارہواں سال۔صورتحال اس وقت اور بھی زیادہ دلچسپ ہوگئی جب گھڑیوں میں گیارہ بج کر گیارہ منٹ اور گیارہ سیکنڈ ہوئے۔ اس وقت ایک کے ہندسوں کی ترتیب کچھ اس طرح ہوگئی۔ 111111111111۔

یہ دلچسپ تاریخ اب آئندہ سو سال بعد یعنی 2111میں ہی دوبارہ پیدا ہوسکے گی۔ اس حوالے سے آج دنیا بھر میں جتنی بھی شادیاں ہوئیں وہ منفرد تاریخ کے حوالے سے آئندہ سو سالوں تک یادگاررہیں گی۔ اسی طرح جو بچے آج پیدا ہوئے ان کی تاریخ اگلی ایک صدی تک منفرد شمار ہوگی۔

شادی کے دن کو یادگار بنانے کے لئے آج دنیا میں ہزاروں جوڑے رشتہ ازدواج میں بندھ گئے۔امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹ پریس کی ایک خبر کےمطابق ایشیا ء کے بیشتر ممالک میں واقعے شادی ہال آج لوگوں سے کھچاکھچ بھرے رہے۔بے شمار جوڑوں نے اپنی پسندکے رشتے بھی منتخب کئے ۔ خاص کر چینی شہریوں میں سب سے زیادہ شادیوں کے لئے جوش و خروش پایا گیا ۔

چین میں ویسے بھی ہر سال گیارہویں مہینے کی گیارہ تاریخ کو ”سنگلز ڈے “یعنی ’کنواروں کا دن ‘منایاجاتا ہے۔ لیکن اس بار دلچسپ تاریخ ہونے کے سبب اسے ”سپر سنگلز ڈے “کا نام دیا گیا تھا۔

اس دن کو یادگار بنانے کی غرض سے صرف شنگھائی میں 3ہزار 2سو جوڑوں نے شادی کے لئے خود کو رجسٹرڈ کرانے کی درخواست دی تھی ۔ شنگھائی سو ل افیئرز بیورو کے ایک عہدیدار شینگ چنگ کا کہنا ہے کہ یہ تعداد عام دن کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔

چین کی زینگ ہوا نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ گیارہ نومبرکو شنگھائی کے علاوہ دوسرے شہروں میں شادی کے خواہشمند کنوارے افراد کی تعداد 10ہزار سے بھی زیادہ ہے۔

ملائیشیاء میں رہائش پذیر ایک ہزار چینی جوڑوں نے بھی آج مختلف عبادت گاہوں میں جاکر شادیاں کیں۔گیارہ ، گیارہ اور ۔۔گیارہ کو شادی کرنے کے بعض ’دیوانوں‘ کو باقاعدہ لائن میں بھی لگنا پڑا کیوں کہ یہ تمام افراد بہرصورت صبح گیارہ بج کر گیارہ منٹ اور گیارہ سکینڈ پر شادی کرنے کے خواہشمند تھے۔

ادھر کوالالمپور میں بھی 450 جوڑوں نے بھی شادی کیلئے آج ہی کا دن منتخب کیا ہوا تھا۔ ان تمام جوڑوں کو شہر کے سب سے مشہور مندر تھیان ہو مندر میں ہی شادی کرنا تھی لہذا یہاں بھی لائنوں کا اہتمام کرنا پڑا۔

شادی کی بات توپھر بھی قابل برداشت تھی مگر اس دیوانگی کو کیا کہیے کہ کوریاکے مختلف اسپتالوں کے گائنی وارڈز میں خواتین کی بہت بڑی تعداد نے خود کو آپریشن کے لئے رجسٹرڈ کرایا تاکہ ان کے بچوں کو منفرد شناخت اور منفرد تاریخ پیدائش مل سکے یعنی گیارہ ، گیارہ اور گیارہ۔۔۔

XS
SM
MD
LG