رسائی کے لنکس

2010ء مشرقِ وسطیٰ سفارت کاری میں نئی تیزی لائے گا

  • رابرٹ برجر

مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں سفارت کاری إِس ماہ تیزی سے آگے بڑھنے والی ہے جس کے تحت اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات کو نئے سرے سے شروع کرنے کی سمت کوشش ہوگی۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہونے اِس ہفتے قاہرہ کا دورہ کر کے یہ تجویز پیش کی کہ امن عمل کو دوبارہ پٹڑی پر ڈالنے کے لیے مصر سہ رُخی سربراہی اجلاس کا انعقاد کرے جِس میں فلسطینی صدر محمود عباس شریک ہوں۔

اسرائیل کے نائب وزیرِ خارجہ ڈینی ایالون کا کہنا ہے کہ نو ماہ قبل اقتدار سنبھالتے ہی اُن کی حکومت نے مذاکرات کے دربارہ آغاز کے لیے کوششیں شروع کر دی تھںب۔

آیالون کے الفاظ میں ‘ جوں ہی یہ حکومت تشکیل پائی، ہم نے روزِ اَوّل سے ہی فلسطینیوں سے مطالبہ کرنا شروع کیا کہ وہ بغیر کسی شرط کے مذاکرات اور بات چیت شروع کریں۔’

فلسطینیوں نے کڑی شرط عائد کی ہے۔ وہ یہ کہ تب تک امن بات چیت کی طرف نہیں لوٹیں گے جب تک اسرائیل مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں یہودی بستیوں کی تعمیر کا کام مکمل طور پر روک نہیں دیاا۔ اُنھوں نے جزوی طور پر تعمیر کے کام کو روکنے کی اسرائیلی پیش کش کو مسترد کر دیا ہے۔

غسان خطاب فلسطینی کابینہ میں وزیر ہیں۔ اُن کے الفاظ میں ‘ایک طرف امن مذاکرات کا آغاز ہو اور ساتھ ہی بستیوں میں اسرائیلی توسیع جاری رہنے کا معاملہ، طورطریقہ اور پالیسیاں امن مذاکرات کی ناکامی کا سبب بنیں گے۔’

ساتھ ہی تعطل کو توڑنے کی کوششوں میں تیزی آتی جارہی ہے۔ مذاکرات کے نئے سرے سے اجرا کے لیے حکمتِ عملی طے کرنے کے لیے صدر عباس اگلے ہفتے مصر کا دورہ کرنے والے ہیں۔ امریکہ، جو کہ امن عمل کی سرپرستی کر رہا ہے، اِسی ماہ کے اواخر میں مشرقِ وسطیٰ پرمقرر خصوصی نمائندے جارج مچل کو دوبارہ خطے کی طرف روانہ کرنے والا ہے۔

XS
SM
MD
LG