رسائی کے لنکس

2010 ء : اس سال کون سی مصنوعات نہیں خریدنی چاہیئں


2010 ء : اس سال کون سی مصنوعات نہیں خریدنی چاہیئں

2010 ء : اس سال کون سی مصنوعات نہیں خریدنی چاہیئں

یکم جنوری سے شروع ہونے والا 21 ویں صدی کا دوسرا عشرہ پچھلی دہائی سے اس لحاظ سے مختلف ہوگا کہ ہم اس وقت جو سائنسی مصنوعات اور آلات اپنی روزمرہ زندگی میں استعمال کررہے ہیں، وہ یا تو ہماری زندگیوں سے خارج ہوجائیں گے یا ان کا استعمال بہت ہی کم رہ جائے گا۔ جیسے 21 ویں صدی کے آغاز پر ڈائل اپ انٹرنیٹ کنکشن انتہائی ترقی یافتہ سائنسی دریافت سمجھی جاتی تھی لیکن صرف دس سال کے بعد ترقی یافتہ ممالک زیادہ تر براڈ بینڈ ہائی سپیڈ انٹرنیٹ یا فائیوز پر منتقل ہوچکے ہیں اورڈائل اپ کنکشن اب رفتہ فتہ ترقی پذیر ممالک سے بھی رخصت ہوتا جا رہا ہے۔

دس سال پہلے زیادہ تر گھر وں میں بڑے سائز کے ٹیوب ٹیلی ویژن استعمال ہوتے تھے جب کہ اب ان کی جگہ فلیٹ سکرین ٹی وی اور مانیٹرلے چکے ہیں اور مغربی ممالک کی مارکیٹوں میں اب کہیں ٹیوب ٹی وی دکھائی نہیں دیتے۔ اسی طرح اس صدی کے آغاز پر کوئی بھی آئی پاڈ، نن ٹنڈو اور وی کے گیم سٹم کے بارے میں نہیں جانتا تھا مگر آج کم ہی ایسے بچے ہوں گے جنہیں ان الیکٹرانک کھیلوں تک رسائی نہیں ہے۔

2010ء میں ماہرین سائنسی مصنوعات کی دنیا میں انقلابی تبدیلیوں کی توقع کررہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اس سال اخباروں، کتابوں ، فلموں کی ڈی وی ڈیز کے استعمال میں مسلسل کمی جاری رہے گی اور ان کی جگہ ڈجٹلخ اخباراور کتابیں لیتی جائیں گی اور ایسے آلات عام ہوجائیں گے جن پر کتابیں اور اخبار پڑھے جاسکیں گے۔ اسی طرح لوگوں میں فلموں اور دیگر تفریحی پروگراموں کو آن لائن ڈاؤن لوڈ کرنے کے رجحان میں اضافہ ہوگا۔

صارفین بڑے آلات اور مصنوعات مثلاً کاریں وغیرہ خریدتے وقت توانائی میں بچت کو اپنے سامنے رکھیں گے اور اسی طرح اپنے گھروں میں ایسی مصنوعات کو ترجیح دیں گے جو زیادہ سے زیادہ توانائی بچا سکیں۔جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ سال 2010ء میں کچھ چیزوں کی خریداری میں نمایاں کمی آئے گی یا ان کا استعمال تقریباً ختم ہوجائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نئے سال میں خریداری کرنے سے پہلے آپ درج ذیل پہلوؤں کو اپنے سامنے رکھیں۔

لینڈلائن ٹیلی فون:

آج کل ہر کسی کے پاس موبائل فون ہے جس کی وجہ سے لینڈ لائن فون کی افادیت کم ہوتی جا رہی ہے

آج کل ہر کسی کے پاس موبائل فون ہے جس کی وجہ سے لینڈ لائن فون کی افادیت کم ہوتی جا رہی ہے

ماہرین کا اندازہ ہے کہ چند برسوں کے اندر اندر گھروں میں فراہم کیا جانے والا لینڈ لائن فون ، ماضی کے روٹری فون (ڈائل گھما کر نمبر ملانے والا فون) کی طرح ماضی کا قصہ بن سکتا ہے۔

بیماریوں سے بچاؤ اور کنٹرول کے امریکی مرکز کی ایک رپورٹ کے مطابق 2009ء کی پہلی شش ماہی کے دوران امریکہ کے ہر پانچ میں سے ایک سے زیادہ گھروں میں صرف موبائل فون تھے اور ان کے پاس کوئی لینڈ لائن فون نہیں تھا۔اور یہ تعداد 2006ء کے مقابلے میں اسی عرصے کے دوران ساڑھے دس فی صد زیادہ تھی۔ لینڈ لائن فون کے زوال کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ موبائل فون کے کنکشن اور ان کے ماہانہ اخراجات لینڈ لائن فون کی نسبت کہیں کم ہیں اور موبائل فون کمپنیاں مقابلتاً زیادہ سہولتیں فراہم کرتی ہیں۔

ایکسٹرنل ہارڈ ڈرائیوز:

جو صارفین ایک عرصے تک اپنا کمپیوٹر تبدیل نہیں کرتے اور ہزاروں گانے، ویڈیوز، فلمیں اور فوٹو کمپیوٹر کی ہارڈ ڈسک پر محفوظ کرتے ہیں، انہیں وقت گذرنے کے ساتھ اپنے کمپیوٹروں کے لیے بڑی ہارڈ ڈرائیوز کی ضرورت پڑے گی۔

اس کا ایک حل ایکسٹرنل ہارڈ ڈرائیو ہے لیکن اس کا ایک اور آسان تر متبادل موجود ہے، یعنی آن لائن بیک اپ سروسز۔ ایکسٹرنل ہارڈ ڈرائیو کے مقابلے پر ان کا ایک فائدہ یہ ہے کہ آپ جہاں کہیں بھی ہوں ، یہ سہولت آپ کو میسر ہے۔ کاربونائٹ ڈاٹ کام، یا موزی ڈاٹ کام وغیرہ ایسی کمپنیاں ہیں جو انٹرنیٹ کے ذریعے اپنے صارفین کو بیک اپ ڈیٹا تک رسائی کی سہولت فراہم کرتی ہیں۔یہ سروسز فی الحال ایکسٹرنل ہارڈ ڈرائیوز کی خرید کی نسبت مہنگی ہیں لیکن امکان ہے کہ وقت گذرنے کے ساتھ یہ سستی ہوجائیں گی۔

عام موبائل فون:

ایس ایل آر کیمروں کی قیمتوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے جس کی وجہ سے عام لوگ بھی انھیں خرید سکتے ہیں

ایس ایل آر کیمروں کی قیمتوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے جس کی وجہ سے عام لوگ بھی انھیں خرید سکتے ہیں


پچھلے چند برسوں کے دوران مارکیٹ میں آئی فون اور بلیک بیری سے ملتے جلتے کئی سمارٹ فون متعارف ہوئے لیکن وہ ان دو کی طرح مقبول نہیں ہوسکے۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ کمپنیاں اب انہی دو فونز کے استعمال میں آنے والی چیزیں بنانے کو ترجیح دے رہی ہیں۔ان دنوں بلیک بیری سمارٹ فونز کی مارکیٹ پر چھایا ہوا ہے اور اس کے بعد آئی فون کا نمبر آتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے 2010 ء میں بھی ان کی سبقت برقرار رہے گی۔ماہرین کا خیال ہے آنے والے برسوں میں ان سمارٹ فونز کا مقابلہ گوگل کے Android اور نیکسس ون فون سے ہوسکتا ہے جن کی مقبولیت کے گراف میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

’پوائنٹ اینڈ شوٹ‘ ڈجیٹل کیمرے:

بلو رے ڈسک میں ڈی وی ڈی کے مقابلے پر دس گنا زیادہ ڈیٹا محفوظ کیا جا سکتا ہے

بلو رے ڈسک میں ڈی وی ڈی کے مقابلے پر دس گنا زیادہ ڈیٹا محفوظ کیا جا سکتا ہے


ایک عشرے پہلے تک ڈجیٹل کیمرے خال خال ہی نظر آتے تھے مگر اب وہ فلم کیمروں کو مارکیٹ سے تقریباًخارج کرچکے ہیں۔ڈجیٹل کیمروں کی نہ صرف قیمتیں نمایاں طورپر کمی ہوئی ہیں بلکہ ان کی قوت ، کارکردگی اور ان میں موجود سہولتوں میں بھی قابل ذکر اضافہ ہوا ہے جب کہ دوسری جانب ان کا حجم بہت ہی مختصر ہوگیا ہے۔ لیکن اب پروفیشنل کوالٹی کے ایس ایل آر کیمروں کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے بعد پوائنٹ اینڈ شوٹ کیمروں کی افادیت میں کمی آ تی جا رہی ہے۔

ایس ایل آر کیمروں کی خصوصیات میں تصاویر کی اعلیٰ کوالٹی، کم روشنی میں بھی عمدہ کارکردگی، اور مختلف لینز استعمال کرنے کی صلاحیت شامل ہیں۔

ایک اور نکتہ یہ ہے کہ ہر نئے موبائل فون میں پوائنٹ اینڈ کیمرا موجود ہوتا ہے، جس کی وجہ سے الگ کیمرے کی مانگ میں کمی واقع ہو گی۔

کاغذی اخبارات اور رسائل:

گذر جانے والا سال اشاعتی صنعت کے لیے اچھا ثابت نہیں ہوا۔ نیوز پیرایسوسی ایشن آف امریکہ کے مطابق 2008 ء میں امریکہ میں اخبارات کے اشتہاروں کی آمدنی میں تقریباً 18 فی صد تک کمی ہوئی ۔ جب کہ اپریل سے ستمبر 2009ء کے دوران اس سے پچھلے سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 379 اخبارات کی اشاعت میں اوسطاً ساڑھے دس فی صد کمی ہوئی ۔اسی طرح جریدوں کا حال بھی کچھ زیادہ اچھا نہیں رہا۔ 2009ء میں 360 سے زیادہ رسالے بند ہوئے۔

اب بہت سے لوگ صبح کے وقت اپنے گھر اخبار منگوانے کی بجائے اب لوگ زیادہ تر آن لائن اخبار اور رسالے پڑھتے ہیں جن میں سے زیادہ تر مفت دستیاب ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے آنے والے دنوں میں ایسے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے جو الیکٹرانک اخبار، رسالوں اور کتابوں کو پڑھنے کے لیے صرف ایک ہی ذریعے پر انحصار کریں۔

ڈی وی ڈی فلمیں:


اب وہ دور تقریباً ختم ہوا جب لوگ فلمیں کرائے پر لاکر اپنے گھر دیکھا کرتےتھے۔ کرائے پر فلمیں فراہم کرنے والے ایک بڑی امریکی کمپنی ’بلاک بسٹرز‘ کا کہنا ہے کہ 2010ء کے آخرتک اپنے لگ بھگ 22 فی صد اسٹور بند کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال کی آخری سہ ماہی میں اس کی آمدنی میں 2008 ء کی اسی سہ ماہی کے مقابلے میں 20 فی صد کمی ہوئی۔

فلموں کی ڈی وی ڈیز کی قیمت اوسطاً 20 ڈالر ہے جب کہ امریکہ میں وارنر کیبل کمپنی پانچ ڈالر میں ایک فلم آپ کو اپنے گھر پر دکھانے کی سہولت فراہم کرتی ہے ۔ اسی طرح ایک اور کمپنی ورائزن فائیوز کیبل سروس تقریباً چھ ڈالر مہینے کے عوض آپ کو ماہانہ لامحدود تعداد میں فلمیں ڈاؤن لوڈ کرنے کی سہولت فراہم کررہی ہے۔

ٹویوٹا پریئس عام گاڑی کے مقابلے پر بہت کم پٹرول خرچ کرتی ہے

ٹویوٹا پریئس عام گاڑی کے مقابلے پر بہت کم پٹرول خرچ کرتی ہے


اور ویسے بھی اب سونی بلو رے کے بعد ڈی وی ڈی کا بات بند ہونے والا ہے، اور بہت جلد ڈی وی ڈی بھی ویڈیو کیسٹ اور فلاپی ڈسک کی طرح قصہٴ پارینہ بن جائیں گی۔

سی ڈیز:

گذشتہ عشرہ سی ڈی صنعت کے لیے بدترین ثابت ہوا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اب آپ اپنی پسند کے گانے انٹرنیٹ سے حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ گانے اکثر اوقات بہت کم قیمت یا پھر مفت ہی مل جاتے ہیں، جس کی وجہ سے بازار جا کر سی ڈی خریدنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔

یہی وجہ ہے کہ ماہرین کہتے ہیں اب سی ڈیز کا باب بند ہوچکا ہے۔امریکہ میں میوزک کی سی ڈیز فروخت کرنے والے بہت سے بڑے بڑے سٹور ، فروخت اور آمدنی میں غیر معمولی کمی کے باعث بند ہوچکے ہیں۔ 2004ء میں ’ٹاور ریکارڈ‘ نامی کمپنی دیوالیہ ہوگئی اور 2006ء تک اس کے زیادہ تر اسٹور بند ہوچکے تھے۔

نصابی کتابیں:

جب تک طالب علموں کو درحقیقت کسی بڑی کمپنی کی نئی نصابی کتاب کی ضرورت ہی نہ ہو، وہ کئی سستےمتبادل ذرائع استعمال کرسکتے ہیں۔ایک تجارتی گروپ ریٹیل ایڈورٹائزنگ اینڈ مارکیٹنگ ایسوسی ایشن کے ایکزیکٹیو ڈائریکٹر مائک گیٹی کہتے ہیں کہ استعمال شدہ نصابی کتابوں کی دکان پر آپ کو 70 سے 90 فی صد تک کی بچت ہوسکتی ہے۔نصابی کتابیں خریدنے کے لیے آپ سستی کتابوں کی ویب سائٹس سے مدد لے سکتے ہیں۔اسی طرح اکثر کالجوں کے بک سٹوروں پر بھی استعمال شدہ کتابیں فروخت ہوتی ہیں۔

نصابی کتابوں کی خرید کا ایک اور متبادل طریقہ کتابوں کو آن لائن ڈاؤن لوڈ کرنا ہے جو کافی سستی پڑتی ہیں۔

زیادہ پٹرول استعمال کرنے والی گاڑیاں:

2010 ء : اس سال کون سی مصنوعات نہیں خریدنی چاہیئں

2010 ء : اس سال کون سی مصنوعات نہیں خریدنی چاہیئں

گذشتہ دس سال کے دوران پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتیں میڈیا کی شہ سرخیوں میں موجود رہیں اور اب بھی یہ صورت حال برقرار ہے۔ انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کا خیال ہے کہ 2010 ء میں ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
کاریں بنانے والی کمپنیوں کی جانب سے توانائی کی بچت کرنے والی گاڑیاں بڑے پیمانے پر بنانے کے اعلان سے صارفین کا رجحان پٹرول پر چلنے والی گاڑیوں سے ہٹ سکتا ہے۔ توانائی کے امریکی محکمے کے مطابق ایندھن کی سب سے زیادہ بچت کرنے والی گاڑیوں میں ہنڈا سوک ہائی برڈ کار شامل ہے جو شہر میں ایک گیلن میں 40 میل اور ہائی ویز پر 45 میل کا فاصلہ طے کرتی ہے۔ اسی طرح ٹویوٹا کی ہائی برڈ کار ایک گیلن میں 48 / 51 میل تک کا فاصلہ طے کرتی ہے۔

XS
SM
MD
LG