رسائی کے لنکس

نیا مشینی دل ایجاد کرلیا گیا


نیا مشینی دل ایجاد کرلیا گیا

نیا مشینی دل ایجاد کرلیا گیا


ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ ہر سال دنیا میں ایک کروڑ 70 لاکھ افراد دل کی بیماریوں سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔ جبکہ ترقی پذیر ممالک میں دل کی بیماریاں اموات کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہیں۔ ان حالات میں امید کی ایک کرن ہے ایک نئی ایجادہے جس کی مدد سے دل کی بیماریوں سے ہونے والی اموات پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔

78 سالہ رچرڈ سٹوو کے سینے میں ایک مشینی آلہ لگایا گیا ہے جو ان کے جسم میں خون کی گردش کو رواں رکھتا ہے۔سامنے نظر آنے والی صرف ایک بیٹری اور تار ہے جو ان کے ساتھ رکھی ہے۔رچرڈ سٹوو دل کی بیماری کے ان پہلے مریضوں میں سے ہیں جن کا علاج ہارٹ پمپ نامی اس آلے کی مدد سے کیا جا رہا ہے۔

امریکی فوڈاینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے ہارٹ پمپ نامی اس آلے کے استعمال کی منظور ی دے دی ہے اور اسے ان مریضوں کے دل کی جگہ لگایا جا سکتا ہے جو عمر رسیدہ ہونے کے باعث تبدیلی قلب کے آپریشن سے نہیں گزر سکتے۔ ڈاکٹر لیزلی ملر واشنگٹن ہاسپٹل سینٹر میں اسی آلے پر تحقیق کر رہی ہیں ۔

وہ کہتی ہیں کہ 60 سال کی عمر کے بعد دل کےدورے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں جبکہ دل کی تبدیلی بھی مشکل ہو جاتی ہے۔ آنے والے وقت میں یہ آلہ دل کے مریضوں کے علاج کےلیے بہت اہم ثابت ہو گا۔

شروع میں ہارٹ پمپ دل کی تبدیل سے پہلے وقتی طور پر استعمال کیے جاتے تھے۔ لیکن نئے پمپس چھوٹے اور براہ راست دل سے لگا دیے جاتے ہیں۔ اور بیٹری باہر رکھی جاتی ہے۔ڈاکٹر لیزلی کہتی ہیں کہ بیٹری اور تاریں آپ کی بیلٹ پر لگ سکتی ہیں۔یا آپ انھیں اپنی جیکٹ میں یا بیگ میں بھی ڈال سکتے ہیں۔

دل کی بیماریوں کا شکار صرف 8 فیصد مریض 2 سال تک زندہ رہ سکتے تھے ۔ہارٹ پمپ یا ہارٹ میٹ ۱۱ کی مدد سے یہ تعداد 58 فیصد ہو گئی ہے۔سٹوو کہتے ہیں کہ ہارٹ پمپ لگوانے سے پہلے وہ بہت کم حرکت کر سکتے تھے۔ان کا کہنا ہے کہ میں اتنا کمزور تھا کہ ٕ صرف 20 یا 30 فٹ ہی رکے بغیرچل سکتا تھا۔

ہارٹ پمپس صرف بوڑھوں کے لیے ہی نہیں بلکے بچوں اور نوجوانوں میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے ، جنکے دل کسی وائرس کی وجہ سے کمزور ہو چکے ہوں ۔ طبی ماہرین اب کوشش کر رہے ہیں ، ہارٹ پمپ کے ذریعے ، دل کو آرام دے کر ٹھیک بھی کیا جائے۔ ڈاکٹر ملر کہتی ہیں کہ ہارٹ پمپ کے ساتھ مریض کو ہسپتال میں کم وقت گزارنا پڑتا ہے اورعلاج کے اخراجات کم ہو جاتے ہیں ۔

XS
SM
MD
LG