رسائی کے لنکس

اس سال کے آخر تک مارکیٹ میں ایسا گوشت فروخت ہونا شروع ہوجائے گا جو غذائیت ، ذائقےاور خوشبومیں حقیقی گوشت جیسا ہوگا ، لیکن اسے کارخانوں میں سبزیوں اور اناج سے تیار کیا جائے گا۔ مصنوعی گوشت کی شلف لائف اصلی گوشت سے کہیں زیادہ ہوگی اور وہ فریزر کے بغیر لمبے عرصے تک استعمال کے قابل رہے گا۔

مصنوعی گوشت تیار کرنے والے پہلے تجرباتی پلانٹ نے کام شروع کردیا ہے اور اس پلانٹ میں ایک سینٹی میٹر موٹےاور لامحدود لمبائی کے قتلے تیار کیے جارہے ہیں جنہیں ضرورت کے مطابق کاٹ کر برگراور دوسرے پکوانوں میں اصلی گوشت کی جگہ استعمال کیا جاسکتاہے۔

مصنوعی گوشت اپنے ذائقے اور غذائیت کے اعتبار سے بالکل اصلی گوشت جیسا ہے اور اسے کھا کر یہ محسوس ہی نہیں ہوتا کہ آپ گوشت کا ایسا ٹکڑا چبارہے ہیں جسے کسی جانور سے حاصل نہیں گیا بلکہ اسے اناج اور سبزیوں سے تیار کیا گیا ہے۔

گذشتہ چند برسوں سے مارکیٹ میں ٹافو اورملتے جلتے ناموں سے گوشت کا ایک متبادل فروخت کیا جارہاہے جو اگرچہ غذائیت کے لحاظ سے گوشت جیسا ہے ، مگراس کاذائقہ اور بناوت گوشت جیسی نہیں ہے۔ اور اسے کھاتے ہوئے یہ احساس ہوتا ہے کہ گوشت نہیں بلکہ کچھ اور چبایا جارہاہے۔ گوشت کے یہ متبادل ان لوگوں کے لیے ہیں جو گوشت سے تو پرہیز کرتے ہیں لیکن گوشت جیسے پروٹین اور اجزا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ امریکہ اور یورپی مارکیٹوں میں متبادل گوشت کے برگر اور پکوان کثرت سے دستیاب ہیں۔

مصنوعی گوشت بنانے کی کوششیں کئی عشروں سے کی جارہی ہیں۔جس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ دنیا بھر میں لوگوں کا معیار زندگی عمومی طورپر بلند ہورہاہےجس سے گوشت کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ اس وقت دنیا کی آبادی 7 ارب نفوس سے زیاد ہے جس میں تقریباً ایک اعشاریہ 17 فی صد سالانہ کی رفتار سے اضافہ ہورہاہے ۔ ماہرین کا اندازہ ہے اگلے چھ عشروں میں انسانی آبادی 14 ارب سے آگے نکل جائے گی اور ان کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے جانوروں کی تعداد میں اسی نسبت سے اضافہ کرنا ہوگا ، جو بظاہر مشکل دکھائی دیتا ہے۔

جانوروں کا چارہ اور خوراک اگانے کے لیے مزید قابل کاشت زمین درکار ہوگی۔ جب کہ زمین کی رسد میں ایک خاص حد سے زیادہ اضافہ کرنا اس لیے ممکن نہیں ہوگا کیونکہ بڑھتی ہوئی انسانی آبادی کی غذائی ضروریات کے لیے بھی اضافی زمین کی ضرورت ہوگی۔

ماحولیاتی ماہرین کی ایک بڑی تعداد بڑے جانوروں کو فضائی آلودگی اور کاربن گیسوں کا ایک بڑا سبب سمجھتے ہیں۔ ان کا کہناہے کہ جانوروں کی موجودہ تعداد دنیا بھر کی ٹرانسپورٹ سے زیادہ آلودگی پھیلارہی ہے۔ اور اگر انسان اس کرہ ارض پر زندہ رہناچاہتا ہے تو اسے جانوروں کی آبادی کو محدود کرنے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔

مصنوعی گوشت کی جانب توجہ مبذول ہونے کی ایک اور وجہ ایسے افراد ہیں جو اپنے عقائد یا کسی اور وجہ سے گوشت کھانا نہیں چاہتے لیکن وہ کسی ایسے متبادل کے خوہش رکھتے ہیں جو بالکل گوشت جیسا ہو۔

ایک اندازے کے مطابق جانورسے ایک پونڈ گوشت حاصل کرنے کے لیے اسے 5 سے 8 پونڈ تک خوراک کھلانی پڑتی ہے۔جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ گوشت دینے والے جانور زرعی پیداوار پر کتنا دباؤ ڈالتے ہیں ۔

حال ہی میں سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے سٹم سیل سے لیبارٹری میں مصنوعی حقیقی گوشت تیار کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی، مگر اسٹم سیل سے تیار کردہ کوشت کی فراہمی محددو ہے ، اس کی تیاری میں زیادہ وقت لگتا ہے اور فی الحال اسے صرف قیمے جیسی شکل میں بنایا جاسکتا ہے۔

جرمنی میں واقع فرونہوفر انسٹی ٹیوٹ فار پراسیس انجنیئرنگ اینڈ پیکج کی تجربہ گاہ میں سائنس دانوں نے مصنوعی گوشت کی تیاری کے لیے ایک چھوٹے سائز کا پلانٹ استعمال کیا جس کی صلاحیت 60 سے 70 کلو گرام گوشت فی گھنٹہ تھی۔

گوشت ایک سینٹی میٹر موٹےقتلے کی شکل میں تھا جس کی لمبائی لامحدود تھی اور اسے ضرورت کے مطابق ٹکڑوں کی شکل میں کاٹا جاسکتا ہے۔

لیبارٹری کی ایک سائنس دان فلورین وائلڈ کا کہناہے کہ ہمارے سامنے چیلنج یہ تھا کہ سبزیوں سے تیارکردہ مصنوعی گوشت کانہ صرف ذائقہ حقیقی گوشت جیسا ہوبلکہ وہ کھاتے وقت زبان کو اصلی گوشت کا تاثر بھی دے۔

ان کا کہناہے کہ ہمارے لیے ایک اور اہم چیلنج یہ بھی ہے کہ منصوعی گوشت کی قیمت اصلی گوشت سے کم ہو تاکہ صارفین اسے ایک سستے اور اچھے متبادل کے طورپر قبول کرلیں۔ گوشت کی تیاری میں کامیابی کے بعداب اس کی لاگت گھٹانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

وائلڈ کے مطابق مصنوعی گوشت زیادہ عرصے تک قابل استعمال رہتا ہے چنانچہ اسے مارکیٹ میں فروخت کے لیے رکھنے کی مدت اصلی گوشت سے کہیں زیادہ ہے۔

جرمنی کی لیبارٹری میں ماہرین نے گندم، مٹر، سویا بین اور لوپن بین سے مصنوعی گوشت تیارکیا ہے۔ ان کا کہناہے کہ مختلف اجناس سے گوشت بنانے کا مقصد یہ ہے کہ جنہیں کسی ایک جنس سے الرجی ہوتو وہ دوسری جنس سے تیار کردہ گوشت لے سکتے ہیں۔

پلانٹ میں اجناس اور سبزیوں کے پروٹینز کو کچھ دیر کے لیے کھولتے ہوئے پانی میں رکھا جاتا ہے اور پھر انہیں آہستہ آہستہ ٹھنڈا کیا جاتا ہے، جس سے پروٹینز کے سالمے حقیقی گوشت کے انداز میں ایک دوسرے سے جڑجاتے ہیں اور ایسے ہی ریشے بنا لیتے ہیں جیسے اصلی گوشت کے ہوتے ہیں۔

مصنوعی گوشت کی تیاری میں ویانا کی یونیورسٹی آف نیچرل سائنسز اینڈ لائف سائنسز اور نیدرلینڈز کی یونیورسٹی آف وانگنن گن اور خوراک تیار کرنے والی 11 یورپی کمپنیوں نے مشترکہ طورپر حصہ لے رہی ہیں۔

مصنوعی گوشت مارچ کے آخر میں جرمنی کے شہر کولون میں خوراک سے متعلق سب سے بڑے یورپی میلے ’انوگا فوڈ ٹیک ٹریڈ فیئر‘ میں رکھا جائے گا اور ماہرین کو توقع ہے کہ اس سال کے آخرتک سبزیوں کا گوشت مارکیٹوں میں فروخت ہوناشروع ہوجائے گا۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG