رسائی کے لنکس

آسیان سربراہ کانفرنس ہنوئی میں شروع ہوگئی

  • ڈینیئل شیرف

آسیان سربراہ کانفرنس ہنوئی میں شروع ہوگئی

آسیان سربراہ کانفرنس ہنوئی میں شروع ہوگئی

جنوبی ایشیائی ممالک کے راہنماؤں کے مذاکرات ویت نام میں شروع ہوگئے ہیں جن میں توجہ معیشت اور علاقائی انضمام پر مرکوز ہے۔ جب کہ برماکے متنازع انتخابات اور حزب اختلاف کی راہنما آنگ ساں سوچی کی رہائی سے متعلق خدشات مذاکرات کے پہلے دن نمایاں رہے ۔

ویت نام کے وزیر اعظم نو وی ان تھان ڈونگ نے آسیان کانفرس کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ یہ تنظیم علاقائی استحکام میں ایک اہم کردار ادا کررہی ہے۔

جمعرات کے روز ایک مترجم کے ذریعے تقریر کرتےہوئے انہوں نے کہا کہ آگے بڑھنے کا عمل جاری رکھنے کے لیے آسیان کو اپنے شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون کے لیے کام کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ آسیان کو اپنی کمیونٹی کی تعمیر اور اپنے مرکزی کردار کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ اپنے شراکت داروں کو آگے لانے اور انہیں سہولتیں فراہم کرنے کا عمل جاری رکھنے ، اور امن ، سیکیورٹی اور علاقائی ترقی سے منسلک مسائل کے حل کے لیے زیادہ گہرے تعلق اور تعمیری کوششوں کو بروئے کار لانا چاہیے۔

توقع ہے کہ آسیان ممالک کے راہنما ،7 نومبر کو ہونے والے متنازع برمی انتخابات پر بھی گفتگو کریں گے۔

مجوزہ برمی انتخابات میں فوج کو ایک چوتھائی نشستوں کی ضمانت دی گئی ہے، جب کہ حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی جماعتوں کو اس سیاسی عمل سے الگ کردیا گیا ہے اور نسلی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے لاکھوں افراد کو ووٹ کا حق دینے سے انکار کیا گیا ہے۔

جمعرات کے روز ہنوئی میں برما کے وزیر خارجہ نیان ون نے سفارت کاروں کو بتایا کہ انتخابات کے چند ہی روز بعد حزب اختلاف کی راہنما آنگ ساں سوچی کی قید کی سزا مکمل ہونے کے بعد ان کی گھر پر نظر بندی ختم کردی جائے گی۔

فلپائن کے صدارتی ترجمان رکی کارندانگ نے کہا کہ ان کی حکومت آنگ ساں سوچی کی رہائی کا خیرمقدم کرے گی۔

آسیان ممالک کے سربراہان جمعے کے روز اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بن کی مون سے ملاقات کریں گے ، جو برما کی صورت حال پر اپنی مایوسی کا اظہار کرچکے ہیں۔

سیکرٹری جنرل ہفتے کے روز مشرقی ایشیا سربراہ کانفرنس میں آسڑیلیا، بھارت اور نیوزی لینڈ کے ساتھ شرکت سے قبل، چین ، جاپان اور جنوبی کوریا کے راہنماؤں کے ساتھ بھی بات چیت کریں گے۔

امریکہ اور روس بھی اس کانفرنس میں مبصر کے طورپر حصہ لیں اور وہ 2011ء میں اس کی رکن بن جائیں گے۔

آسیان کے رکن ممالک میں برونائی، برما، کمبوڈیا، انڈونیشیا، لاؤس، ملائیشیا، فلپائن، سنگاپور، تھائی لینڈ اور ویت نام شامل ہیں۔

XS
SM
MD
LG