رسائی کے لنکس

پاکستان: آئی ایسی آئی کے سابق سربراہ کی عدالت میں طلبی


پاکستان: آئی ایسی آئی کے سابق سربراہ کی عدالت میں طلبی

پاکستان: آئی ایسی آئی کے سابق سربراہ کی عدالت میں طلبی

پاکستان کی سپریم کورٹ نے سیاست میں خفیہ ایجنسی ’آئی ایس آئی‘ کی مبینہ مداخلت سے متعلق مقدمے کی مکمل تفصیلات طلب کرتے ہوئے فوجی ادارے کے سابق سربراہ اسد درانی کو بھی عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بدھ کو جب سینیئر سیاست دان اصغر خان کی آئینی درخواست کی سماعت شروع کی تو اُن کے وکیل نے عدالت کے سامنے اپنے دلائل میں کہا کہ اسد درانی کی طرف سے جمع کرائے گئے بیانِ حلفی کے بعد یہ واضح ہو چکا ہے کہ فوج کا خفیہ ادارہ جمہوری عمل میں مداخلت کا مرتکب ہوا تھا جو اختیارت کے غلط استعمال کے زمرے میں آتا ہے۔

اس پر عدالت عظمٰی کا کہنا تھا کہ اس مقدمے میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کے موقف کو کلیدی حیثیت حاصل ہے اس لیے سماعت کے دوران اُن کی موجودگی ناگزیر ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ مقدمے کے ریکارڈ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس میں وقتاً فوقتاً پیش رفت ہوتی رہی ہے کیوں کہ اسد درانی کے علاوہ اُس وقت کے آرمی چیف مرزا اسلم بیگ اور اس اسکینڈل کے ایک اہم کردار یونس حبیب کے بیانات بھی قلم بند ہو چکے ہیں۔

عدالت نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد اسد درانی کی عدالت میں پیشی کے احکامت جاری کرتے ہوئے مقدمے کی سماعت 8 مارچ تک ملتوی کر دی، اور متعلقہ حکام کو اس مقدمے کی مکمل تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔

اسد درانی نے عدالت عظمیٰ میں جمع کرائے گئے اپنے بیان حلفی میں یہ اعتراف کر رکھا ہے کہ مقتول بینظیر بھٹو کی سیاسی جماعت کو واضح اکثریت سے محروم کرنے کے لیے 1990ء کے عام انتخابات سے پہلے آرمی چیف اسلم بیگ کی ہدایت پر آئی ایس آئی نے سیاستدانوں میں بھاری رقوم تقسیم کرکے اُنھیں ’اسلامی جمہوری اتحاد‘ کے پلیٹ فارم پر متحد کرنے میں کردار ادا کیا تھا۔

اصغر خان کی آئینی درخواست سے متعلق مقدمہ 1999ء کے بعد سے التویٰ کا شکار تھا، لیکن بظاہر حکمران پیپلز پارٹی کے بعض رہنماؤں کی طرف سے دیگر مقدمات کی طرح اس مقدمے کی ترجیحی بنیادوں پر سماعت کے حالیہ مطالبات کے بعد عدالت عظمیٰ نے گزشتہ ماہ اس کی سماعت دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

مبصرین کا ماننا ہے کہ اصغر خان کی آئینی درخواست پر کوئی غیر معمولی فیصلہ متوقع نہیں ہے، اور آئی ایس آئی کی جانب سے سیاسی رہنماؤں میں رقوم کی تقسیم کو عدالت عظمیٰ کی جانب سے زیادہ سے زیادہ غیر آئینی اقدام قرار دیا جا سکتا ہے۔

لیکن ناقیدن کا خیال ہے کہ اس مقدمے کی سماعت مستقبل میں کسی بھی ریاستی ادارے کو جمہوری عمل میں مداخلت سے باز رکھنے کے علاوہ سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں خاص طور پر اُن کے مالی وسائل سے متعلق اُمور کو شفاف بنانے میں مدد گار ثابت ہو گی۔

XS
SM
MD
LG