رسائی کے لنکس

’ہندوستان سب کا ہے،’ بھارت کی نامور گلوکارہ آشا بھوسلے نے یہ بیان دے کر مہاراشٹر کی علاقائی سیاسی جماعت نونرمان سینا کے سربراہ راج ٹھاکرے کی ممبئی میں کام کرنے والے شمالی بھارت کے باشندوں کے خلاف مہم کی کھل کر مخالفت کی ہے۔

آشا نے یہ بیان اتوار کے روز پونہ شہر میں مراٹھی چینل کی جانب سے اپنی 75 ویں سالگرہ کے جشن کے لیے منعقد ایک پروگرام میں حصہ لیتے ہوئے دیا ہے۔

دل چسپ بات یہ ہے کہ اِسی پروگرام میں شرکت کے لیے راج ٹھاکرے بھی وہاں پونہ میں موجود تھے۔ اطلاعات کے مطابق پہلے راج نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ آشا نے مختلف زبانوں میں کئی نغمے گائے ہیں اور ملک کے مختلف حصوں میں لوگوں نے اُن نغموں کو اپنایا ہے، یہ سب کچھ اس لیے ہوا کیوں کہ وہ مراٹھی ہیں۔

اس کے بعد ماضی میں گریمی ایوارڈز کے لیے نامزدگی کا اعزاز رکھنے والی بالی وڈ کی عظیم گلوکارہ آشا نے راج کی علاقائی سیاست سے جڑی اوچھی باتوں کو سنی ان سنی کرتے ہوئے ممبئی میں غیر مراٹھیوں کے معاملے پر اپنا ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ممبئی پورے بھارت کا ہے اور یہاں کوئی بھی اُس شخص کی روزی نہیں چھین سکتا جو صبح سے شام تک محنت کرتا ہے۔ اور یہ کہ مہاراشٹر کے لوگوں کو بھی کڑی محنت کے لیے تیار رہنا چاہیئے۔

آشا نے جب یہ بیان دیا اُس وقت راج وہاں موجود تھے تاہم انہوں نے آشا کے بیان پر کچھ کہنے سے گریز کیا۔

منگل کے روز اردو وی او اے نے راج سےبات کرنے کی کوشش کی پر راج کے ساتھ ساتھ اُن کی پارٹی کے ترجمان سریش پرکار نے بھی آشا کے بارے میں کچھ کہنے سے انکار کر دیا۔

ہندی فلم صنعت میں آشا تائی کے نام سے پہچانی جانے والی اِس گلوکارہ نے ذات پات اور زبان کے معاملے پر لوگوں کے درمیان تفریق پیدا کرنے کی سیاست کی کھلے عام مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مراٹھی ضرور ہیں پر وہ ہندی زبان بھی بولتی ہیں، اور ایک بھارتی ہونے کے ناطے وہ گجرات یا مدراس یا کہیں بھی جا کر رہ سکتی ہیں۔

تاہم یہ بھی سچ ہے کہ منگیشکر خاندان کے ٹھاکرے خاندان کے ساتھ خاصے گہرے رشتے رہے ہیں۔ اب یہ دیکھنا ہو گا کہ آشا تائی کے اِس پورے بیان پر شیوسینا کا مؤقف کیا ہو گا۔

خیال رہے کہ یہ پہلی بار نہیں جب کسی بالی وڈ ہستی نے ممبئی میں غیر مراٹھیوں کے معاملے پر اُن کے حق میں بیان دیا ہے۔ اِس سے قبل شاہ رخ خان نے بھی کہا تھا کہ ممبئی شہر میں آ کر اپنی قسمت بنانے کا حق سب کو ہے۔

XS
SM
MD
LG