رسائی کے لنکس

اشوک کمار کی یادیں: بڑے بھائی کی سالگرہ پر چھوٹے بھائی کی موت


اشوک کمار کی یادیں: بڑے بھائی کی سالگرہ پر چھوٹے بھائی کی موت

اشوک کمار کی یادیں: بڑے بھائی کی سالگرہ پر چھوٹے بھائی کی موت

اشوک کمار بالی ووڈ فلموں کے ایسے ایکٹر تھے جنہوں نے اراد تاً فلمی دنیا کا رخ نہیں کیا تھا بلکہ وہ حادثاتی طور پر ایکٹر بنے مگر کامیابی نے ایک بار ان کا ہاتھ تھاما تو پھرکبھی انہیں پیچھے مڑ کر دیکھنے نہیں دیا۔ممبئی فلم انڈسٹری میں انہیں " دادا منی" کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ آج اگر دادا منی زندہ ہوتے تو اپنی 100 ویں سالگرہ منارہے ہوتے۔

ان کا جنم 13 اکتوبر 1911ء کوہوا تھا ۔ یہ بھی ایک عجیب اتفاق ہے کہ اسی دن یعنی13 اکتوبر 1987ء کو ان کے چھوٹے بھائی کشور کمار کی موت ہوئی۔ کشور کمار اشوک کمار کی 76ویں سالگرہ کی تقریب میں شریک تھے کہ اچانک انہیں سینے میں درد کی شکایت محسوس ہوئی اور اسپتال پہنچنے سے قبل ہی ان کا انتقال ہوگیا۔

اشوک کمار کو فلمی دنیا کا سب سے شرمیلا ہیرو مانا جاتا تھا۔ وہ 1936ء میں اپنے آبادی شہر کولکتہ سے نوکری کی تلاش میں ممبئی آئے تھے جہاں "ممبئی ٹاکیز" نامی فلمیں بنانے والی کمپنی میں انہیں لیب اسسٹنٹ کے عہدے پر رکھ لیا گیا۔

ایک روز ڈائریکڑ ہمانشو رائے افسردہ ہو کراسٹوڈیو میں پریشان بیٹھے تھے ۔ان کی ایک فلم کی شوٹنگ ممبئی ٹاکیز کے تحت ہی ہورہی تھی مگر مسئلہ یہ تھا کہ فلم کے ہیرو انہیں بغیر بتائے کہیں چلے گئے تھے لہذا ان پر جھنجلاہٹ سوار تھی کہ اسی اثناء میں ان کی نظر اشوک کمارپر پڑی اور تبھی انہوں نے فیصلہ کرلیا کہ ان کی فلم "جیون نیا"کا ہیرو کوئی اور نہیں اشوک کمار ہی ہوں گے۔انہوں نے نئے سرے سے فلم کی شوٹنگ شروع کی اور یوں اشوک کمارزیرو سے ہیرو بن گئے۔

اگرچہ اشوک کمار بہت زیادہ خوب صورت نہیں تھے اور نہ ہی ان میں ہیرو جیسی کوئی خوبی تھی مگر ایک بار کام شروع کیا تو کامیابی ان کے قدم چومتی چلی گئی۔" اچھوت کنیا، قسمت، چلتی کا نام گاڑی، خوب صورت" اور" کھٹا میٹھا "ان کی کامیاب ترین فلمیں ٹھہریں۔

اشوک کمار پچاس سال تک فلمی افق پر چھائے رہے۔ اس دوران انہوں نے 300 سے زائد فلموں میں کام کیا ۔ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں چار مرتبہ فلم فیئر ایوارڈز، دادا صاحب پھالکے اور پدم بھوشن جیسے بڑے اور مشہور ترین ایوارڈز سے نوازا گیا۔

اشوک کمار نے غربت کے کڑے دن دیکھے تھے مگر انہوں نے ساری زندگی اپنے دونوں چھوٹے بھائیوں کشور کمار اور انوپ کمار کو کبھی اس کا احساس تک نہ ہونے دیا بلکہ سچ پوچھئے تو ان دونوں کی کردار سازی اور کامیاب آدمی بنانے میں اشوک کمار نے بہت بڑا کردار ادا کیا تھا۔ حالانکہ ان کی ذاتی زندگی میں ناکامیوں کے سائے دور دور تک پھیلے ہوئے تھے، ان کی بیوی شوبھا سے زندگی بھر ان کے اختلافات رہے۔ شوبھا مے نوش تھیں جبکہ اشوک ان کی یہ عادت چھڑانا چاہتے تھے لیکن اختلافات تھے کہ ختم ہونے میں ہی نا آتے تھے۔

کشور کی موت کے بعد اشوک کمار مزید 14سالوں تک زندہ رہے لیکن اس واقعے کے بعد پھر کبھی اشوک کمار نے اپنی سالگرہ نہیں منائی بلکہ جب بھی ان کی سالگرہ آتی وہ کشور کمار کی یادیں تازہ کرجاتی اور وہ صرف ملال کرکے ہی رہ جاتے۔آخر کار دسمبر 2001ء میں موت کا فرشتہ انہیں بھی اپنے ساتھ لے گیا ۔

XS
SM
MD
LG