رسائی کے لنکس

’قومی یکجہتی کی یہ حکومت قانون کی پاسداری کرے گی۔ یہ سماجی انصاف والی حکومت ہوگی، شفافیت پر عمل پیرا حکومت ہوگی، دادرسی اور صلاحیتوں کے قابل حکومت ہوگی اور ایک ذمہ دار حکومت ہوگی‘

ملک کے متنازع صدارتی انتخابات میں فاتح قرار دیے جانے کے بعد، منتخب افغان صدر اشرف غنی احمدزئی نے پہلی اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، عہد کیا کہ اُن کی انتظامیہ عوام کو جوابدہ ہوگی۔

مسٹر غنی نے پیر کے روز کابل میں اپنے حامیوں کے ایک اجتماع کو بتایا کہ اُن کی حکومت بدعنوانی ختم کرے گی اور ملک میں امن و امان قائم کرے گی۔


بقول اُن کے، ’قومی یکجہتی کی یہ حکومت قانون کی پاسداری کرے گی۔ یہ سماجی انصاف والی حکومت ہوگی، شفافیت پر عمل پیرا حکومت ہوگی، دادرسی اور صلاحیتوں کے قابل حکومت ہوگی اور ایک ذمہ دار حکومت ہوگی۔‘

اُن کے اِس بیان سے ایک ہی روز قبل، مسٹر اشرف غنی نے اپنے انتخابی حریف، اور سابق وزیر خارجہ عبداللہ عبداللہ کے ساتھ شراکتِ اقتدار کے سمجھوتے پر دستخط کیے۔

اس معاہدے کے بعد مہینوں سے جاری سیاسی انتشار کا خاتمہ ہوا، جس میں دونوں امیدوار پہلی جون کو ہونے والے صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے میں اپنی سبقت کا دعویٰ کرتے رہے۔

مسٹر غنی نے صبر سے کام لینے پر عوام کا شکریہ ادا کیا۔

اُن کے بقول،’گذشتہ چھ ماہ کے دوران صبر کا مظاہرہ کرنے پر ہم تمام افغانوں کے شکرگزار ہیں، جو انتخابی نتائج کا انتظار کرتے رہے۔ ہم نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ سیاسی امور بندوق کے زور پر حل نہیں ہوتے، بلکہ بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے سے حل ہو سکتے ہیں۔‘

نئے سمجھوتے کی رو سے، مسٹر غنی ’چیف اگزیکٹو‘ کے ساتھ اختیارات میں شراکت داری کریں گے، جن کو عبداللہ نامزد کریں گے، اور دونوں مل کر اِس بات کا فیصلہ کریں گے کہ کون مالی اور سلامتی کے کلیدی اداروں کی قیادت کرے۔


مسٹر غنی نے سیاسی ڈیل کے بارے میں نکتہ چینی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ قومی وحدت والی حکومت کا مطلب اشتراکِ اقتدار کی حکومت نہیں ہے۔

بقول اُن کے، ’یہ دو منہ والی حکومت نہیں ہوگی، بلکہ ایسی حکومت ہوگی جس کی منزلِ مقصود ایک ہی ہوگی‘۔


افغانستان کا انتخابی کمیشن سرکاری طور پر جون میں منعقد ہونے والے انتخاب کے دوسرے مرحلے کی جانچ پڑتال سے متعلق اعداد و شمار جاری نہیں کرے گا۔ مسٹر اشرف غنی کے ساتھ مذاکرت کے دوران، مسٹر عبداللہ کی اُن سے یہی حتمی مطالبہ تھا۔

تاہم، غیر سرکاری طور پر منکشف ہونے والے نتائج سے پتا چلتا ہے کہ مسٹر غنی کو تقریباً 55 فی صد ووٹ پڑے، جب کہ مسٹر عبداللہ نے تقریباً 45 فی صد ووٹ حاصل کیے۔

مسٹر اشرف غنی 29 ستمبر کو کابل کے صدارتی محل میں منعقدہ تقریب میں اپنے عہدے کا حلف لیں گے۔

مسٹر غنی نے وعدہ کیا ہے کہ وہ سلامتی کے معاہدے پر دستخط کریں گے، جس کے نتیجے میں جب امریکہ اور نیٹو کی لڑاکا افواج کا انخلا ہوگا، تو اگلے سال سےتقریباً 10000 امریکی فوجی تربیت دہندگان اور مشیر ملک میں رہیں گے۔


XS
SM
MD
LG