رسائی کے لنکس

اشرف غنی کا دورہٴ انڈونیشیا، دھیان معاشی روابط مضبوط بنانے پر مرتکز


افغان صدر اشرف غنی کے دو روزہ تاریخی دورہٴ انڈونیشیا میں دھیان نئے جمہوری ملکوں کے مابین معاشی روابط کو مضبوط بنانے پر مرتکز رہے گا۔

انڈونیشیا کے صدر جوکو ’جوکووی‘ وِدودو نے افغانستان میں ایک بڑا اسپتال اور اسلامی مرکز تعمیر کرنے کا اعلان کیا ہے، جب کہ دورے کے دوران تعاون کے سلسلے میں مزید متعدد سمجھوتوں پر بھی دستخط کیے جائیں گے۔

دونوں راہنماؤں نے شدت پسندی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے مل کر کوششیں کرنے پر بھی غور و خوض کیا۔

تاہم، انڈونیشیا میں موجود تقریباً 8000 افغان مہاجرین اور پناہ کے متلاشی افراد کے بارے میں اب تک کوئی ذکر سامنے نہیں آیا۔

انڈونیشیا میں پہنچنے والے مہاجرین اور پناہ کے متلاشی افراد افغان ہیں، اور خاص طور پر اُن کا تعلق ہزارہ نسل سے ہے، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ منگولیائی نسل یا پھر وسط ایشیائی لوگ ہیں ،جنھوں نے ماضی میں بے تحاشہ اذیتیں جھیلی ہیں۔

اِن میں سے زیادہ تر کشتی کے ذریعے آسٹریلیا کا سفر کرنا چاہتے تھے، لیکن چونکہ آسٹریلیا نے 2014ء میں بحری راستے سے ملک میں داخلے پر پابندی لگا رکھی ہے، اِس لیے ہزارہ مہاجرین کے ایک بڑے گروپ نےمغربی جاوا اور سُماترا میں پڑاؤ ڈالا ہوا ہے۔

انڈونیشیا میں آمد سے چند ہی روز قبل، صدر غنی نے آسٹریلیا کے دارالحکومت، کیبنرا میں ہزارہ افراد کے ایک بڑے وفد سے ملاقات کی، جو احتجاجی مظاہرہ کر رہے تھے۔

تاہم، انڈونیشیا آمد کے موقعے پر، کوئی مظاہرہ نہیں دیکھا گیا۔ لیکن، متعدد افغان مہاجرین اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کام کرنے والے سرگرم کارکنان نے اِس بات پر برہمی کا اظہار کیا ہے کہ دورے میں اُن کے بہبود سے متعلق کوئی بات نہیں کی گئی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG