رسائی کے لنکس

سرکاری رپورٹ میں آسیہ بی بی بے گناہ قرار، رہائی کی سفارش

  • عمیر ریاض

کراچی میں عیسائی آسیہ بی بی کی سزا کے خلاف مظاہرہ کرتے ہوئے۔ 25 نومبر، 2010

کراچی میں عیسائی آسیہ بی بی کی سزا کے خلاف مظاہرہ کرتے ہوئے۔ 25 نومبر، 2010

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے اقلیتی امور نے اپنی ایک رپورٹ میں توہینِ رسالت کے جرم میں سزائے موت پانے والی عیسائی خاتون کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے اس کی رہائی کی سفارش کی ہے۔ جبکہ صدر آصف علی زرداری نے وفاقی وزیر کو توہینِ رسالت کے قانون میں ترامیم تجویز کرنے کیلیے ایک کمیٹی قائم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق جمعرات کے روز حکومت کی جانب سے جاری ہونے والے ایک اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اقلیتی امور کے وفاقی وزیر شہباز بھٹی نے صدر زرداری سے اسلام آباد میں ملاقات کی اور آسیہ کے معاملے پر اپنی وزارت کی رپورٹ پیش کی۔
آسیہ بی بی

آسیہ بی بی

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آسیہ کے خلاف توہینِ رسالت کا مقدمہ ذاتی دشمنی کی بنیاد پر درج کرایا گیا تھا، لہذا اس کی سزا معاف کرتے ہوئے اسے رہا کیا جائے۔ رپورٹ میں آسیہ اور اس کے اہلِ خانہ کو سرکاری سیکیورٹی فراہم کیے جانے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

بدھ کے روز شہباز بھٹی کے دفتر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے آسیہ بی بی کے خاوند عاشق مسیح نے کہا تھا کہ انہیں اور ان کے اہلِ خانہ کو مسلسل جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں جس کے باعث وہ اپنا علاقہ چھوڑ کر نامعلوم مقام پر منتقل ہوگئے ہیں۔

صوبہ پنجاب کے ایک گائوں کی رہائشی اور پانچ بچوں کی ماں آسیہ بی بی کو ایک پاکستانی عدالت نے مسلمانوں کے مذہبی عقائد کی توہین کا جرم ثابت ہونے پر دو ہفتے قبل سزائے موت سنائی تھی۔
آسیہ کا شوہر اور بیٹیاں

آسیہ کا شوہر اور بیٹیاں

عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والی آسیہ پر الزام عائد تھا کہ اس نے اپنے ہمراہ کھیتوں میں کام کرنے والی خواتین کے ساتھ ہونے والے ایک مذہبی مباحثے کے دوران پیغمبر اسلام کے خلاف توہین آمیز کلمات کہے تھے۔ تاہم عدالت کے سامنے بیان دیتے ہوئے 45 سالہ آسیہ کا کہنا تھا کہ گائوں کے رہائشی مسلمانوں کی جانب سے اس پر اسلام قبول کرنے کیلیے دباؤ ڈالا جارہا تھا اور اس کے انکار پر اسے اس مقدمے میں الجھایا گیا۔

سرکاری اعلامیہ کے مطابق صدر سے ملاقات کے دوران عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی اقلیتیں تمام پیغمبروں اور آسمانی کتابوں کا احترام کرتی ہیں اور "ان کی توہین کا تصور بھی نہیں کرسکتیں کیونکہ اس کے نتائج کا انہیں بخوبی اندازہ ہے"۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ملاقات کے دوران صدر آصف علی زرداری نے وفاقی وزیر کو ہدایت کی کہ وہ توہینِ رسالت کے قانون میں ترامیم تجویز کرنے کیلیے ایک کمیٹی تشکیل دیں تاکہ اس قانون کا سیاسی اور ذاتی بنیادوں پر غلط استعمال کا راستہ روکا جاسکے۔

واضح رہے کہ آسیہ بی بی کے کیس پر عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی نکتہ چینی کے بعد صدرآصف علی زرداری نے اقلیتی امور کے وفاقی وزیر کو معاملے کی تحقیقات کرکے رپورٹ دینے کی ہدایت کی تھی۔

پوپ بینی ڈکٹ سمیت کئی عالمی شخصیات اور اداروں کی جانب سے آسیہ کی رہائی کیلیے پاکستانی حکومت سے اپیل کی گئی تھی جس کے بعد صوبہ پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر نے اتوار کے روز جیل کا دورہ کرکے آسیہ بی بی سے ملاقات کی تھی اور اس کی رہائی کیلیے صدر زرداری سے ذاتی حیثیت میں اپیل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

پاکستان کےآئین کے تحت ملک کے صدر کو عدالتوں کی جانب سے دی جانے والی سزاؤں کی معافی یا ان میں تخفیف کا اختیارحاصل ہے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان میں توہینِ رسالت کے الزام کے تحت کسی خاتون کو موت کی سزا سنائی گئی ہے۔

XS
SM
MD
LG