رسائی کے لنکس

پاکستان کی ٹیم اچھا کھیلی اور بھارت کی ٹیم اُس سے بھی اچھا ۔مگر ’گیم پلان‘ کس کا اچھا تھا، کس نے کہاں غلطی کی؟

میرپور، شیربنگلہ سٹیڈیم میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم ایک بڑا سکور کرنے کے باوجود ہار گئی۔ اس نتیجے کا سبب محض پاکستان باولرز یا فیلڈرز کی ناقص کارکردگی قراردینا بھارت کے بلے بازوں، خاص طور پر ورات کوہلی کی غیرمعمولی بلے بازی کو داد تحسین نہ دینے کے مترادف ہو گا۔ بھارت کی ٹیم ایک روزہ میچوں میں سب سے زیادہ مرتبہ تین سو کا ہندسہ عبور کرنے والی ٹیم ہے۔

بلاشبہ پاکستان کے بلے بازوں نے غیرمعمولی پرفارمنس دی۔ گزشتہ تقریبا 25 ایک روزہ میچوں میں پاکستانی ٹیم نے 300 کا ہندسہ عبور نہیں کیا تھا، اس میچ میں وہ 329 رنز بنانے میں کامیاب ہوئی۔ اور اس کا سہرا اوپنرز محمد حفیظ اور ناصر جمشید کے سر جائے گا جنہوں نے سنچریاں سکور کرتے ہوئے نہ صر ف بھارت کے خلاف بہترین اوپننگ سٹینڈ کا ریکارڈ قائم کیا، بلکہ ایشیا کپ میں بھی پہلی وکٹ پر سب سے زیادہ شراکت داری کا ریکارڈ بنایا۔ 224 کے انفرادی سکور پر ناصر جمشید 112 رنز بنا کر آوٹ ہوئے۔

اور کچھ ہی دیر بعد محمد حفیظ بھی 104 کے انفرادی سکورپر پولین لوٹ گئے۔ یونس خان نے تیز رفتار ففٹی سکور کی۔ البتہ کھیل کے آخری اووروں میں یکے بعد دیگرے وکٹیں گرنے کے سبب پاکستانی ٹیم تیزی سے رنز نہ بنا سکی ۔

بھارت کی ٹیم نے 330 رنزکا بظاہر پہاڑ جیسا ہدف باآسانی چار وکٹوں پر حاصل کرلیا۔ ورات کوہلی نے 148 گیندوں پر 183 رنز کی شاندار اننگ کھیلی جس میں 22 چوکے اورایک چھکا شامل تھا۔ ماسٹربلاسٹر سچن ٹنڈولکر کے ساتھ ان کی 133 رنز اور پھر روہت شرما کے ساتھ 172 رنز کی شراکت نے میچ پر بھارت کی گرفت ہر لمحے مضبوط رکھی اور پوری اننگ میں سوائے پہلے اوور کے جب محمد حفیظ نے ان فارم گوتم گھمبیر کو ایل بی ڈبلیو آوٴٹ کیا، بھارت کی ٹیم میچ پر حاوی رہی۔

پاکستان کی ٹیم کیوں ہاری؟ بھارت کی ٹیم کی فتح کی وجہ کیا تھی؟ اگر ظاہری نظر سے دیکھیں تو ایک جملے میں کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی ٹیم اچھا کھیلی، بھارت کی ٹیم اس سے بھی اچھا کھیلی۔

لیکن، اگر باریک بینی سے جائزہ لیں توپتا چلے گا کہ اصل فرق ’گیم پلان‘ کا تھا۔

میچ کے ہیرو ورات کوہلی نے بتایا بھی ہے کہ ان کی کوشش تھی کہ پاکستان کے اٹیکنگ باولرز کے خلاف احتیاط سے کام لیا جائے جو مختلف سپیلز میں وکٹیں لے کربھارت کے لیے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔ اور دوسری کوشش تھی کہ وکٹ پر زیادہ سے زیادہ قیام کیا جائے۔ دیکھا بھی گیا کہ بھارت کے بلے باز ابتدائی اووروں میں عمر گل، سعید اجمل اور محمد حفیظ کے خلاف محتاط رہے جبکہ انہوں نے اعزاز چیمہ اورخاص طورپر وہاب ریاض کو خوب تختہ مشق بنایا۔ وہاب ریاض کے چار اووروں میں 50 رنز بنے۔ اگر دیکھیں تو یہی سب سے بڑا فرق تھا۔آخری اوورز میں تو عمر گل بھی مہنگے ثابت ہوئے۔

پاکستان کے کپتان سے کہاں غلطیاں ہوئیں؟ گیم پلان کیا تھا۔؟ ایسا کب ہوا ہو گا کہ کوئی باولرمخالف ٹیم کو پہلے ہی اوور میں ایک وکٹ کا نقصان پہنچائے اور پھر اس کو ہٹا لیا جائے؟ بھارت کے خلاف میچ میں تو یہی دیکھا گیا۔ محمد حفیظ سے باولنگ شروع کرائی گئی۔ اور وہ گوتم گھمبیر کی وکٹ لینے میں کامیاب بھی ہوئے مگر انہیں تبدیل کر دیا گیا۔ کپتان کی یہ حکمت عملی سمجھ سے باہر تھی۔

بجائے اس کے کہ اسی باولر کے ساتھ گیند بازی جاری رکھتے، فیلڈ پلان جارحانہ ہوتا، مزید فیلڈر قریب لا کر بیٹسمین پر دباو بڑھایا جاتا، محمد حفیظ کو ہٹا لیا گیا اور ان کی جگہ اعزاز چیمہ کے خلاف بھارت کے بلے باز اپنے ہاتھ کچھ اس طرح سے چلانے میں کامیاب ہوئے کہ یہ سلسلہ 48 اوور تک جاری رہا جب بھارت نے فتح حاصل کر لی۔

اسی طرح عمرل گل نے اپنے ابتدائی چار اوورز میں تقریبا چار کی اوسط سے رنز دیے اور وہ پریشان بھی کر رہے تھے، ان کو بھی تبدیل کر دیا گیا۔سعید اجمل سے بھی ایک اوور کرانے پر اکتفا کیا گیا۔ یہ سب تبدیلیاں غیر ضروری اور سمجھ سے بالاتر تھیں۔

کپتان مصباح کا پلان غالبا یہ تھا کہ بھارت کو 330 رنز نہیں کرنے دینا، بھلے وہ 328 کرلے۔ انہوں نے، لگتا ہے سوچا بھی نہیں تھا کہ بھارت کی پوری ٹیم کو آوٹ بھی کیا جا سکتا ہے۔ اگر ایسی حکمت عملی ہوتی تو جارحانہ بالنگ پلان ہوتا، جارحانہ فیلڈنگ کھڑی کی گئی ہوتی۔ یہ تاثر مل رہا تھا کہ کپتان چاہتے ہیں کہ کسی طرح اوور گزر جائیں اور آخر کے 12 سے 15 اوورعمر گل اور سعید اجمل سے کرائے جائیں گے۔

اس کا نیتجہ یہ نکلا کہ پہلے ورات کوہلی اور سچن نے سنگل ڈبل اور آسان باونڈیز کے ساتھ سنچری پارنٹنرشپ کی اور پھر روہت شرما کے ساتھ 172 رنز کی شراکت نے پاکستان کو میچ سے ہی باہر کر دیا۔ جب کوہلی اور شرما کو کرکٹ بال فٹبال کے جتنی نظر آنے لگی تو کپتان مصباح اپنے ’جارحانہ اور مثبت‘ پلان کے مطابق سعید اجمل اور عمر گل کو لے آئے اس وقت تک بازی ہاتھ سے نکل چکی تھی اور پھر سب نے دیکھا کہ عمر گل بھی اپنے آخری اووروںمیں مہنگے ثابت ہوئے۔

کپتان جن باولرز پر تکیہ کیے ہوئے تھے، اپنی ’پلاننگ‘ کی وجہ سے ان سے پورے اوور بھی نہ کرا سکے۔ حفیظ جو نہ صرف وکٹ ٹیکر تھے، بلکہ 4.66 کی اوسط کے ساتھ سب سے زیادہ کفایت شعار ثابت ہوئے تھے، ان کا ایک اوور ابھی باقی تھا، آفریدی کا ایک اوور باقی تھا، عمر گل نے ابھی 9 اوور کرائے تھے اور سعید اجمل کا بھی ایک اوور باقی تھا۔ اگر چہ وہاب ریاض جو پہلے ہی اوور میں بہت مہنگے ثابت ہوئے تھے، ان کے باقی کے تین اوورز عمرگل، حفیظ اور سعید اجمل نے کیے ہوتے تو نتیجہ مختلف نہ ہوتا؟یا کم از کم میچ آخری اوور تک نہ جاتا؟

کپتان مصباح بار بار کہتے ہیں کہ وہ پازیٹو کرکٹ کھیلنے میں میدان میں اترتے ہیں۔ اُنہیں یہ سمجھنا ہو گا کہ جس طرز عمل کا مظاہرہ میدان میں وہ کرتے نظر آتے ہیں، اس کو پازیٹو کرکٹ نہیں کہتے۔

پازیٹو کرکٹ میں تو کبھی کبھی مخالف کو دباو میں رکھنے کے لیے سب سے بہترین باولر سے مسلسل 10 اوورز ابتدا میں بھی کرائے جا سکتے ہیں، بشرطیکہ پلان واضح ہو۔’ دفاع ہی بہترین اٹیک ہے‘ یہ حکمت عملی کبھی کبھی تو درست ہو سکتی ہے ، تمام طرح کی صورتوں میں اس کا اطلاق پازیٹو یا ایگریسو کرکٹ نہیں کہاسکتا۔

اسی طرح اس میچ میں دیکھا گیا کہ جب بھارت پاکستان کی وکٹ لینے میں کامیاب نہیں ہو رہا تھا تو کپتان دھونی نے اپنے تمام پتے استعمال کیے۔ سچن ٹنڈولکر جو بڑے عرصے سے گیندبازی نہیں کر رہے تھے، ان سے بھی گیند کرائی گئی۔ روہت شرما نے بھی بالنگ کی۔ کپتان مصباح دیکھ رہے تھے کہ اعزاز چیمہ اور وہاب ریاض خاصے مہنگے ثابت ہوئے ہیں، پھر بھی انہی پر انحصار کیا اور حماد اعظم پر اعتماد نہیں کیا۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر حماد اعظم سے آل راونڈ جاب نہیں لینی، تو پھر ٹیم میں ان کی جگہ نہیں بنتی۔ کوئی مستند بلے باز وہ نہیں ، کیوں نہ پھر ان کی جگہ اسد شفیق، اظہر علی یا اویس ضیا کو موقع دیا جائے؟

ایشیا کپ ابھی ہاتھ سے گیا نہیں، فائنل میں غالب امکان ہے کہ بھارت ہی مدمقابل ہو، لیکن بنگلہ دیش کی ٹیم جس اتحاد اور جذبے کے ساتھ کھیل رہی ہے، بعید از قیاس نہیں کہ سری لنکا کو شکست دینے کے بعد پاکستان کے سامنے ہو اور اس کو کمزور سمجھنا بہت بڑی غلطی ہو گی۔ لہذا کوچ اور کپتان سر جوڑ کر حکمت عملی بنائیں۔ اور ویسے اگر مصباح میدان کے اندر ’کنفیوز‘ ہوں تو 12واں کھلاڑی کسی بھی فیلڈر کو بنا مانگے پانی پلانے آسکتا ہے، ڈیو واٹمور کو یہ چینل بھی استعمال کرنا چاہیئے۔

ٹیم کی کارکردگی میں مستقل بہتری لانے کے لیے پاکستان کرکٹ کے منتظمین کو دو تین اہم پہلووں پر کا م کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ٹیم کےاندر موجود خامیوں کو دور کیا جا سکے۔

ٹیم کا کمبی نیشن بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ ایک ایسا مستند وکٹ کپیر تلاش کرنا چاہیئے جو ذمے دار اور قابل بھروسہ بلے باز بھی ہو۔ وکٹ کپیر بلے باز کی کمی کے سبب پاکستانی ٹیم مخالفین کے مقابلے میں ایک باولر یا بلے باز کی کمی کے ساتھ میدان میں اترتی ہے۔ عمر اکمل کے ساتھ خانہ پری بیشتر اوقات مہنگی ثابت ہوئی ہے، اور عمر اکمل اپنے ’رویے‘ سے واضح پیغام بھی دیتے ہیں کہ وہ اپنے بھائی کی جگہ نہیں ’مارنا‘ چاہتے۔

اس طرح، فاسٹ باولنگ کا شعبہ خاصا کمزور ہے۔ تمام تر انحصار عمر گل پر نظر آتا ہے۔ وہ ردھم میں ہوں تو میچ ونر، آف کلر ہوں تو ٹیم کا یہ پورا ڈیپارٹمنٹ لڑکھڑاجاتا ہے۔محمد عامر اور محمد آصف کی کمی اعزاز چیمہ اور وہاب ریاض سے پوری کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

یہ دونوں باولر محنتی ضرور ہو سکتے ہیں، مگر یقینا عامر آصف کا متبادل نہیں۔ کرکٹ بورڈ اور سیلیکٹرز کو نیا ٹیلنٹ تلاش کرنا چاہیئے اور اس کے لیے لاہور، کراچی، اسلام آباد، کوئٹہ اور پشاور پر نظریں جمانا کافی نہ ہوگا چھوٹے قصبوں اور دیہاتوں تک جانا چاہیئے۔ کیا پتا کہیں ’بورے والا ایکسپریس‘ مل جائے۔ وقار یونس اورمحمد عامر جیسے باولرچھوٹے قصبوں سے ہی آئے تھے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG