رسائی کے لنکس

2022 تک ایشیا میں شیروں کی آبادی کو دوگنا کردینے کا منصوبہ


2022 تک ایشیا میں شیروں کی آبادی کو دوگنا کردینے کا منصوبہ

2022 تک ایشیا میں شیروں کی آبادی کو دوگنا کردینے کا منصوبہ

قدرتی ماحول کے تحفظ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ خلافِ قانون شکار اور جنگلات کی زمینوں پر بڑھتی ہوئى انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں وہ علاقے سُکڑتے چلے جارہے ہیں ، جو شیر کا قدرتی وطن ہوا کرتے تھے

مختلف جانوروں سے منسوب چینی فلکیات کے 12برجوں کے مطابق، موجودہ سال شیر کا سال ہے۔ لیکن چین اور ایشیا کے دوسرے ملکوں میں شیروں کی آبادی گھٹتے گھٹتے اب اندازاًصرف 3,200 رہ گئى ہے ، جبکہ صرف سو سال پہلے انہی ملکوں میں لگ بھگ ایک لاکھ شیر ہوا کرتے تھے۔

شیروں کی گھٹتی ہوئى آبادی کے اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے اب ایشیا کے 12 ملکوں اور روس نے وعدہ کیا ہے کہ وہ 2022 تک ، جو کہ چین کے روایتی کلینڈر کے مطابق اگلا‘ شیر کا سال ’ ہوگا اپنی علاقائى حدود میں شیروں کی تعداد کو دوگنا کردیں گے۔

ان 13 ملکوں کے نمائندوں نے ، جہاں جنگلوں میں ابھی تک شیر پائے جاتے ہیں، شیروں اور اُن کے قدرتی ماحول کے تحفظ کے اقدامات پر غور کرنے کے لیے اس ہفتے تھائى لینڈ میں اپنا اجلاس کیا تھا۔

جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم ورلڈ وائیلڈ لائیف فنڈ یا ڈبلیو ڈبلیو ایف کے شیروں کی آبادی کے منصوبے کے انچارج مائیکل بالٹزر نے جمعے کے روز اجلاس کو بتایا کہ شیروں کی گھٹتی ہوئى آبادی ایک سنگین مسئلہ ہے اور شیروں کی نسل کو نابود ہونے سے بچانے کے لیے فوری طور پر اقدامات کی ضرورت ہے۔

قدرتی ماحول کے تحفظ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ خلافِ قانون شکار اور جنگلات کی زمینوں پر بڑھتی ہوئى انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں وہ علاقے سُکڑتے چلے جارہے ہیں ، جو شیر کا قدرتی وطن ہوا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اسی وجہ سے شیروں کے لیے زندہ رہنا اور اپنے قدرتی ماحول میں بچّے پیدا کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔

تھائى لینڈ میں وزارتی سطح پر اجلاس کا انتظام شیروں کے تحفظ کے لیے اُس علامی اتحاد نے کیا تھا جس میں تحفظِ ماحول کی کئى تنظیموں کے علاوہ عالمی بینک اور یہاں واشنگٹن میں سمتھ سونین انسٹی ٹیوٹ بھی شریک ہیں۔

بنگلہ دیش، بھوٹان، برما، کمبوڈیا، چین، بھارت، انڈونیشیا، نیپال، روس ، تھائى لینڈ اور ویت نام وہ 13 ملک ہیں جہاں ابھی تک شیر پائے جاتے ہیں۔لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت شیروں کی کُل آبادی میں سے تقریباً نصف شیر صرف بھارت میں ہے۔

XS
SM
MD
LG