رسائی کے لنکس

عاصمہ جہانگیر سپریم کورٹ بار کی صدر منتخب

  • عمیر ریاض

عاصمہ جہانگیر سپریم کورٹ بار کی صدر منتخب

عاصمہ جہانگیر سپریم کورٹ بار کی صدر منتخب

انسانی حقوق کی معروف کارکن عاصمہ جہانگیر ایک سخت مقابلے کے بعد پاکستان کی سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی نئی صدر منتخب ہوگئی ہیں۔

پاکستان کی وکلاء برادری کے اعلیٰ ترین نمائندہ کے انتخاب کیلیے بدھ کو ہونے والے انتخابات میں عاصمہ جہانگیر سمیت تین امیدواران میدان میں تھے۔ آٹھ شہروں میں ہونے والی پولنگ کے بعد جاری کیے گئے غیر حتمی نتائج کے مطابق عاصمہ جہانگیر نے مجموعی طور پر 834 ووٹ حاصل کرکے کامیاب حاصل کرلی ہے۔ جبکہ ان کے حریف احمد اویس 796 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ تیسرے نمبر پر آنے والے امیدوار اکرام چوہدری نے کل 127 ووٹ حاصل کیے۔

وکلاء کا کہنا ہے کہ بار کی انتخابی تاریخ میں پہلی بار اتنا سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا ہے جب شکست اور فتح کا فیصلہ محض 38 ووٹوں کے فرق سے ہوا ہے۔

پاکستان میں انسانی حقوق کی غیر سرکاری تنظیم "ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان " کی سابق چیئرپرسن اور انسانی حقوق کی معروف کارکن عاصمہ جہانگیر کو انتخابات میں حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے حامی وکلاء گروپ "پیپلز لائرز فورم" کے علاوہ عدلیہ بحالی تحریک میں سرگرم کردار ادا کرنے والے وکلاء رہنمائوں اور بار کے سابق صدور علی احمد کرد، جسٹس (ر) طارق محمود، منیر اے ملک اور عابد حسن منٹو کی حمایت حاصل تھی۔

بار کی نومنتخب صدر ماضی میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی زیرِ قیادت عدلیہ کے کئی اہم فیصلوں کو تنقید کا نشانہ بناتی آئی ہیں۔ جبکہ بار کی انتخابی مہم کے دوران ان پر حکومتی امیدوار ہونے کے الزامات بھی عائد کیے جاتے رہے۔

انتخابات میں عاصمہ جہانگیر کے مخالف امیدوار احمد اویس کا تعلق معروف قانون دان اور وکیل رہنما حامد خان کی سربراہی میں قائم وکلاء کے "پروفیشنل گروپ" سے تھا جسے آزاد عدلیہ کا سرگرم حمایتی اور حکومت مخالف گروپ کے طور پر جانا جاتا ہے ۔ عدلیہ بحالی تحریک میں سرگرم کردار ادا کرنے والا "پروفیشنل گروپ" گزشتہ چار سالوں سے لگاتار سپریم کورٹ بار کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرتا آرہا تھا جبکہ اس کے امیدوار احمد اویس عدلیہ بحالی تحریک کے عروج کے زمانے میں لاہور ہائی کورٹ بار کے صدر رہ چکے ہیں ۔

اپنے انتخاب کے بعد لاہور میں صحافیوں سے گفتگو میں عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ ان کی فتح اسٹیبلشمنٹ کی شکست ہے۔ انہوں نے اسلام آباد کا نام لیے بغیر کہا کہ وہ ہر جگہ سے جیتی ہیں لیکن "اسٹیبلشمنٹ" کے شہر سے ہار گئیں۔ ان کا کہنا تھا وہ جھگڑے کرنے والی نہیں بلکہ وکلاء کے اتحاد کیلیے میدان میں آئی ہیں۔ تاہم ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ"انصاف کے نام پر دکانداری چمکانے والوں کو شکست ہوگئی ہے"۔

بار کے انتخاب میں دوسرے نمبر پر رہنے والے احمد اویس ایڈوکیٹ نے اپنی شکست تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ وکلاء کو متحد کرنے کی اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات برائے سال 2011 کیلیے بدھ کو ہونے والی پولنگ میں ملک بھر میں بار کے 2126 ارکان کیلیے اسلام آباد، کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ، ایبٹ آباد، ملتان اور بہاولپور میں پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے تھے۔

سپریم کورٹ بار کے دستور کے مطابق تنظیم کے انتخابات ہر سال منعقد کیے جاتے ہیں جبکہ اس کے صدر کی نشست چاروں صوبوں کے درمیان گردش کرتی ہے۔ اس سال صدارت کیلیے انتخاب لڑنے والے تینوں امیدواران کا تعلق پنجاب سے تھا۔ جبکہ آئندہ سال سندھ سے تنظیم کے صدر کا انتخاب کیا جائے گا۔

بار کے انتخابات میں سب سے زیادہ گہما گہمی لاہور میں دیکھنے میں آئی جہاں سب سے زیادہ 1018ووٹرز رجسٹرڈ تھے جن میں سے 876 نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔ لاہور میں عاصمہ جہانگیر نے 419 جبکہ احمد اویس نے 409 ووٹ حاصل کیے۔ تیسرے امیدوار اکرام چوہدری کو 34 ووٹ ملے۔

اسلام آباد میں سپریم کورٹ کی عمارت میں قائم کردہ مرکزی پولنگ اسٹیشن میں کل 318 ووٹ کاسٹ کیے گئے جن میں 63 بیرونِ شہر کے وکلاء کے تھے۔ اسلام آباد میں احمد اویس نے 136 جبکہ عاصمہ جہانگیر نے 124 ووٹ حاصل کیے۔

پشاور میں عاصمہ جہانگیر نے 47، احمد اویس نے 33 جبکہ اکرام چوہدری نے 18 ووٹ حاصل کیے۔ ایبٹ آباد میں ڈالے گئے ووٹوں میں سے عاصمہ جہانگیر نے 17 جبکہ ان کے مقابل احمد اویس نے 11 ووٹ حاصل کیے۔

ملتان میں بار کے 116 میں سے 91 اراکین نے ووٹ کا حق استعمال کیا۔ جن میں سے احمد اویس کو 45، عاصمہ جہانگیر کو 44 اور اکرام چوہدری کو 2 ووٹ ملے۔ بہاولپور میں قائم کیے گئے پولنگ اسٹیشن پر احمد اویس نے 29 ووٹوں کے ساتھ کامیابی حاصل کی جبکہ ان کی حریف عاصمہ جہانگیر نے 27 ووٹ حاصل کیے۔

کوئٹہ میں بار کے 105 میں سے 79 ارکان نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔ کوئٹہ میں عاصمہ جہانگیر نے 42، احمد اویس نے 29 اور اکرام چوہدری نے 6 ووٹ حاصل کیے۔

کراچی میں عاصمہ جہانگیر نے 114 جبکہ احمد اویس نے 104 ووٹ حاصل کیے۔ اکرام چوہدری کو کراچی سے 6 ووٹ ملے۔

بدھ کو ہونے والے بار کے انتخابات میں صدر کے علاوہ ایگزیکٹو کمیٹی کے 14 ممبران کا چنائو بھی کیا گیا۔ انتخابات کے حتمی نتائج کا اعلان 30 اکتوبر کو کیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG