رسائی کے لنکس

جناب اسلم اظہر پاکستان ٹیلی وژن کے بانیوں میں شمار کیے جاتے تھے اور جب لاہور میں پاکستان ٹیلی وژن کا تاریخی آغاز ہوا تو وہ ہراول دستے میں شامل تھے

پاکستان میں براڈکاسٹنگ کے شعبے کی ایک معروف شخصیت، اسلم اظہر انتقال کرگئے۔ اُن کی عمر تقریباً 85 سال تھی۔

جناب اسلم اظہر پاکستان ٹیلی وژن کے بانیوں میں شمار کیے جاتے تھے اور جب لاہور میں پاکستان ٹیلی وژن کا تاریخی آغاز ہوا تو وہ ہراول دستے میں شامل تھے۔

وہ اسلام آباد میں ٹیلی وژن اکاڈیمی کے سربراہ بھی رہے اور بعد میں کراچی ٹیلی وژن اسٹیشن کے شروع ہونے کے فوراً ہی بعد، 1967ء میں انھیں جنرل منیجر کے عہدے کی ذمے داریاں سونپی گئیں۔ کچھ ہی عرصے میں اُنھوں نے ٹیلی وژن کو گویا اُس کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ بعد میں، سنہ 1972کے شروع میں اُنھیں پاکستان ٹیلی وژن کارپوریشن کے منیجنگ ڈائرکٹر کے عہدے پر فائز کیا گیا اور اِس حیثیت میں وہ کئی سال خدمات انجام دیتے رہے۔ وہ اسٹیٹ فلم اتھارٹی کے سربراہ اور ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی وژن کے چئرمین کے عہدے پر بھی فائز رہے۔

اسلم اظہر بذاتِ ِخود نہایت منجھے ہوئے براڈکاسٹر تھے اور اُن کی آواز کا جادو اور زیرو بم اپنی مثال آپ تھا اور بہت سے نئے آنے والوں کے لیے ایک رہنما بھی۔

اُنھوں نے ابتدائی زمانے میں تھیٹر میں بھی اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا اور اِس شعبے میں بھی کافی داد وصول کی۔

اسلم اظہر صاحب کے بارے میں بجا طور پر کہا جاسکتا ہے کہ وہ جب تک ٹیلی وژن کی دنیا سے وابستہ رہے اور اِس کے بعد بھی، وہی اُن کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ وہ نت نئی اختراعات لے کر آئے، اور اُنھیں عملی جامہ پہنانے میں اسلم صاحب کو ملکہ حاصل رہا۔ وہ نوجوانوں کی جس طرح سے حوصلہ افزائی کرتے اور ٹیلنٹ کی جس طرح اُنھیں پہچان تھی، وہ اُنہی کا حصہ تھا۔

ہمیں کراچی ٹیلی وژن اسٹیشن اور بعد میں راولپنڈی میں اُن کی رہنمائی میں کام کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ اِس دوران، اُن کی شفقت او رہنمائی یادگار لمحات ہیں۔

جناب اسلم اظہر نہ صرف اپنی ذات میں ایک ادارہ تھے، بلکہ ایک انسان دوست بھی۔

ٹیلی وژن اور براڈکاسٹنگ کے شعبے میں اُن کی خدمات کے اعتراف میں اُنھیں ستارہ ٴپاکستان اور تمغہٴ حسن کارکردگی سے بھی نوازا گیا۔

مختصر وقت میں اُن کے کارناموں کا مکمل احاطہ ایک کٹھن کام ہے۔ لیکن، اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ اُن کے انتقال سے ایک اہم باب بند ہوگیا۔

ٹیلی وژن اور براڈکاسٹنگ اُن کی زندگی کا عزیز ترین مشن تھا اور آج یقیناً اِس مشن میں شریک اُن کے تمام رفقاٴ انتہائی سوگوار ہوں گے اور بیتے دِنوں کو یاد کرکے اُن کی آنکھیں اشکبار ہوں گی۔

آج وہ ہم میں نہیں، لیکن وہ ایک مثالی شخصیت تھے اور ہمیشہ اُنھیں اِسی طور پر یاد رکھا جائے گا۔

حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا

XS
SM
MD
LG