رسائی کے لنکس

بہار کی دیہی دوشیزہ عاصمہ پروین کی تصویر اقوامِ متحدہ کے کیلنڈر پر


بہار کی دیہی دوشیزہ عاصمہ پروین کی تصویر اقوامِ متحدہ کے کیلنڈر پر

بہار کی دیہی دوشیزہ عاصمہ پروین کی تصویر اقوامِ متحدہ کے کیلنڈر پر

عاصمہ پروین شمالی بہار کے مظفر پور ضلع میں واقع ایک گاؤں سکری سریا کی عام سی لڑکی ہے۔ لیکن یہ لڑکی غیر معمولی صلاحیتوں کی مالک ہے اور اس نے جو کارنامے انجام دیے ہیں اسی کا نتیجہ ہے کہ اس سال اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ نے جو کیلنڈر شائع کیا ہے اس پر اس کی تصویر چھپی ہوئی ہے۔

عاصمہ پروین کے والد محمد یوسف پرانے خیال کے مسلمان ہیں جو بچیوں کو گھر کی چہار دیواری کے اندر رکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن عاصمہ پروین نے ان کے خیالات سے بغاوت کر کے نہ صرف تعلیم حاصل کی اور آج وہ تاریخ میں بی۔ اے آنرز کر رہی ہے۔ وہیں دوسری جانب اس نے کراٹے کی تعلیم حاصل کی ہے۔ اسے بلو بیلٹ بھی مل چکا ہے۔ اب وہ خود لڑکیوں کو اپنی حفاظت کے لیے کراٹے کی تعلیم دیتی ہے۔

عاصمہ کی عمر ابھی صرف 19سال ہے اور وہ بی اے پاس کرنے کے بعد اسکول میں معلمہ بننا چاہتی ہے۔ حالانکہ پہلے اس کے گھر کے لوگوں نے اس کی تعلیم کی مخالفت کی تھی لیکن اب اس کا بڑا بھائی شکیل احمد کہتا ہے کہ اسے اپنی بہن کے کارناموں پر فخر ہے اور وہ اس کے عزائم کو آگے بڑھانے میں اس کی ہمت افزائی کرنا چاہتا ہے۔ اتنا ہی نہیں کئی ادارے بھی عاصمہ کی مدد کے لیے آگے آئے ہیں کیونکہ عاصمہ کا خاندان بہت غریب ہے اور وہ اپنی کفالت کر پانے میں ناکام ہیں۔

اس کے والد محمد یوسف کہتے ہیں کہ ایک تو میں اپنی غربت کی وجہ سے اس کو پڑھانا نہیں چاہتا تھا دوسرے میرا خیال یہ تھا کہ ہمارا سماج بھی لڑکیوں کو باہر نکال کر اس طرح پڑھائی کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہے لیکن عاصمہ نے جس اولوالعزمی سے اپنے مشن کو آگے بڑھایا ہے اس سے میرے عزائم بھی سوا ہوئے ہیں اور میں اس کی کامیابی کے لیے دعا کرتا ہوں۔

مظفر پور کی ضلع پروگرام کورآڈینٹر پونم کماری کہتی ہیں کہ ہم لوگ عاصمہ کی ہر طرح سے مدد کریں گے اور اسے مایوس نہیں ہو ں دیں گے۔ عاصمہ جلد ہی کراٹے کی مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے ہزاری باغ جائے گی۔ کیونکہ اس کا مقصد بلیک بیلٹ حاصل کرنا ہے۔ اس کے علاوہ عاصمہ کہتی ہے کہ میں ابھی اپنے مشن سے مطمئن نہیں ہوں کیونکہ میرا مقصد ان لڑکیوں کی مدد کرنا ہے جو کچھ کرنا چاہتی ہیں لیکن اب تک گھر کی چہار دیواری میں قید ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ میں معلمہ بن کر ان لڑکیوں کے اندر تعلیم کی روشنی پھیلاؤں گی۔ اقوام متحدہ کے ذریعہ عزت افزائی کیے جانے سے وہ خوش ہے اور کہتی ہے کہ اس سے میرے مشن کو مدد ملے گی۔

XS
SM
MD
LG