رسائی کے لنکس

برطانوی روزنامہ میل آن لائن کی خبر کے مطابق یورپین خوراک کی نگرانی کے ادارے 'ایفسا' کی جائزہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایسپارٹیم یا بازار میں مختلف ناموں سے فروخت ہونے والی مصنوعی شکر کو مجوّزہ مقدار میں استعمال کرنے سےانسانی صحت پر مضر اثرات مرتب نہیں ہوتے۔

یورپ کے ادارہ تحفظ ِخوراک کے مطابق مصنوعی شکر 'ایسپارٹیم' کا استعمال بالکل محفوظ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ، ’کم حرارے والی مصنوعی سوئٹنرز سے انسانی صحت کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے‘۔

برطانوی روزنامہ میل آن لائن کی خبر کے مطابق یورپین خوراک کی نگرانی کے ادارے 'ایفسا' کی جائزہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایسپارٹیم یا بازار میں مختلف ناموں سے فروخت ہونے والی مصنوعی شکر کو مجوّزہ مقدار میں استعمال کرنے سےانسانی صحت پر مضر اثرات مرتب نہیں ہوتے۔

ایسپارٹیم ایک مصنوعی شکر ہے جو عام شکر کے مقابلے میں 200 گنا زیادہ میٹھی ہوتی ہے اسے دنیا بھر میں تقریبا 30 برسوں سے خوراک اور مشروبات کی تیاری میں میٹھے کے متبادل کے طور پرشامل کیا جاتا ہے۔ مصنوعی شکر کو عام طور پر ڈائٹ فوڈ، سوڈا، مشروبات، دہی، آئس کریم، چیونگ گم اور کم حرارے والی مصنوعات کے علاوہ شوگر فری خوراک میں شامل کیا جاتا ہے ۔

اگرچہ متنازعہ کم حرارے والی مصنوعی شکر کے استعمال سے متعلق بہت سی قیاس آرائیاں سامنے آتی رہی ہیں جن میں کہا جاتا ہےکہ مصنوعی شکر کے استعمال سے کینسر کا خطرہ جنم لے سکتا ہے اس کے علاوہ مصنوعی شکر کو بچوں کے روئیے کے مسائل کا بھی ذمہ دار ٹہرایا جاتا رہا ہے لیکن یورپی فوڈ ماہرین نے سائنسی تجزئیے کے نتیجے میں ایسے تمام شکوک وشبہات کو غلط قرار دیا ہے۔

ایفسا کے مطابق ، یورپی ممالک میں مشروبات یا خوراک کے لیبل پر ایسپارٹیم کے لیے ایک کوڈ E951 لکھا جاتا ہے۔

ایفسا کی جانب سے ایک شخص کے دن بھر کے لیے مصنوعی شکر کی مجوّزہ مقدار اس کے جسمانی وزن کے فی کلو کے حساب سے 40 ملی گرام مقرر کی گئی ہے یعنی ایک بالغ برطانوی شخص اوسطا تقریبا 2,800 ملی گرام مصنوعی شکراستعمال کر سکتا ہے۔

جبکہ امریکہ میں مصنوعی شکر کی قابل ِقبول شرح ایفسا کی مقرر کردہ مقدار سے تھوڑی زیادہ ہے امریکہ میں ایک شخص دن بھر میں اپنے جسمانی وزن کے فی کلو پر 50 ملی گرام مصنوعی شکر لے سکتا ہے۔

ایفسا نے نتیجے میں یہ بھی واضح کیا ہے کہ ایسی خوراک جس میں مٹھاس ڈالنے کے لیے مصنوعی شکر شامل کی جاتی ہے اسے کھانے سے دماغ یا اعصابی نظام متاثر نہیں ہوتا ہے اور ناہی کسی شخص کی ذہنی صلاحیتیں اور طرز ِعمل پر کوئی اثر پڑتا ہے۔

البتہ ماہرین نے ایک بیماری 'فینل کیٹو نوریا' کے مریضوں کو ایسپارٹیم کے استعمال سے اجتناب برتنے کی تلقین کی ہے۔

ایفسا کے ماہرین کی ٹیم کے سربراہ الیکجا مورٹینسن نے کہا کہ، 'ہماری رائے ایسپارٹیم کے سب سے جامع تحقیقی جائزہ کے نتیجے کو ظاہر کرتی ہے‘۔
XS
SM
MD
LG