رسائی کے لنکس

کینسر کی نئی مؤثر دوا ۔۔۔ اسپرین

  • جمیل اختر

کینسر کی نئی مؤثر دوا ۔۔۔ اسپرین

کینسر کی نئی مؤثر دوا ۔۔۔ اسپرین

دنیا بھر میں روزانہ کروڑوں افراد جسم کے درد اور بالخصوص سرکے درد سے چھٹکارے کے لیے اسپرین کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ دوا اتنی عام ہے کہ پاکستان سمیت اکثر ترقی پذیر ملکوں میں میڈیکل اسٹوروں کے علاوہ چائے کے کھوکھوں تک سے مل جاتی ہے۔ تاہم اب حال ہی میں سائنس دانوں نے کہا ہے کہ اسپرین پیٹ کے کینسر میں بھی مفید ہے۔

چند عشرے قبل طبی ماہرین نے کم مقدار میں اسپرین کے استعمال کو دل کے امراض سے بچنے کے لیے مفید قرار دیاتھا، جس کے بعد سے اسپرین کی 75 ملی گرام مقدار لینا دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کا معمول بن چکا ہے۔ اسپرین کی یہ مقدار اس سے بھی کم ہے جتنی بچوں کو درد دور کرنے کے لیے دی جاتی ہے۔

معمولی مقدار میں اسپرین کا باقاعدگی سے استعمال خون کو پتلا کر تا ہے ، جس سے دل پرحملے کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔

گذشتہ کئی دہائیوں سے طبی ماہرین کو جس بڑے چیلنج کا سامنا ہے ، وہ ہے کینسر کی روک تھام اور اس کا علاج۔ کینسر کی بہت سی اقسام ہیں ، جن میں سے اکثر کا ابھی تک کوئی مؤثر علاج موجود نہیں ہے اور اس میں مبتلا ہونے کا مطلب ہے موت کے پروانے کا ملنا۔

پیٹ کے کینسر سے ہر سال دنیا بھر میں 16 ہزار افراد ہلاک ہوجاتے ہیں اوراس دوران 38 ہزار سے زیادہ لوگوں میں اس موذی مرض کی تشخیص ہوتی ہے۔

حال ہی میں سائنس دانوں نے کہاہے کہ 75 ملی گرام اسپرین کا طویل عرصے تک باقاعدگی سے استعمال انسان کو پیٹ کے کینسرسے محفوظ رکھ سکتا ہے۔ پیٹ کے کینسر کا شمار مہلک ترین کینسروں میں کیا جاتا ہے۔

ایک حالیہ تحقیق سے ماہرین کو معلوم ہوا کہ 75 ملی گرام اسپرین کے ایک سے تین سال تک باقاعدہ استعمال سے پیٹ کے کینسر میں مبتلا ہونے کے خطرے میں19 فی صد تک کمی آئی۔

رپورٹ کے مطابق تین سے پانچ سال تک اسپرین کا استعمال اس خطرے کو 24 فی صد اور پانچ سے دس سال تک کا استعمال پیٹ کے کینسر کے خطرے میں 31 فی صد تک کمی لاسکتا ہے۔

کینسر کے علاج کے لیے اسپرین پر ایک عرصے سے تحقیق جاری ہے ۔ سائنس دانوں کو کافی پہلے ہی یہ علم ہوگیا تھا کہ یہ عام سی دوا صحت مند خلیوں کو کینسر زدہ ہونے سے روکنے میں کردار ادا کرسکتی ہے۔ تاہم انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ اس کے لیے دوا کی کتنی مقدار درکار ہوگی اور اسے کتنی مدت تک استعمال کرنا ہوگا۔ درد سے نجات کے لیے بالعوم 300 سے 900 ملی گرام تک اسپرین درکار ہوتی ہے۔

طب سے متعلق جریدے Gut میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 5800 افراد پر کی جانے والی ایک تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ پیٹ کے کینسر سے بچاؤ کے لیے اسپرین کی 75 ملی گرام مقدار کافی ہے۔ تحقیق میں شامل رضاکاروں میں 2800 کینسر کے مریض ، جب کہ 3000 صحت مند افراد تھے۔

کینسر کے ایک معالج سٹیو ولیم سن کا کہنا ہے کہ اس تازہ تحقیق سے اس چیز کو تقویت ملتی ہے کہ معمولی مقدار میں اسپرین کا باقاعدہ استعمال پیٹ کے کینسر کے خطرے میں کمی لاسکتا ہے۔ تاہم ان کایہ بھی کہنا تھا کہ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اسپرین ہر ایک کے لیے فائدہ مند نہیں ہے اور اس کے استعمال سے قبل اپنے معالج سے مشورہ ضروری ہے۔

XS
SM
MD
LG