رسائی کے لنکس

ٹرمپ ’اتحادی‘ بن سکتے ہیں: بشار الاسد


بشار الاسد (فائل فوٹو)

بشار الاسد (فائل فوٹو)

شام کے صدر بشار الاسد نے کہا ہے کہ وہ " انتظار کریں گے اور دیکھیں گے" کہ آیا امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ شام سے متعلق اپنے ملک کی پالیسی تبدیل کرتے ہیں یا نہیں، لیکن ان کے بقول وہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں ٹرمپ کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہیں۔

منگل کو پرتگال کے ایک ٹیلی ویژن سے انٹرویو میں انھوں نے ریپبلکن امیدوار کی صدارتی انتخاب میں کامیابی کے بعد اپنے پہلے بیان میں کہا کہ ٹرمپ شام کی حکومت سے لڑنے کی بجائے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کا عزم ظاہر کر چکے ہیں لیکن اسد کے بقول "کیا وہ اس پر عمل بھی کر سکتے ہیں۔"

بشار الاسد کا کہنا تھا کہ "(امریکی انتظامیہ میں شامل) قوتوں کے بارے میں ٹرمپ کیا کریں گے" جو ان کے بقول ٹرمپ کو شام سے متعلق مخاصمانہ موقف اپنائے رکھنے کے لیے اپنا اثرورسوخ استعمال کریں گی۔

ٹرمپ یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ شامی صدر کے خلاف لڑنے والے بعض عسکریت پسندوں کی امریکی حمایت کی پالیسی کو تبدیل کر دیں گے۔

بشار الاسد نے ٹرمپ کے بارے میں شک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "ہم انھیں (ٹرمپ کو) جانچنے میں بہت محتاط ہیں۔۔۔لیکن اگر وہ دہشت گردوں کے خلاف لڑیں گے تو ہم ان کے ایک فطری اتحادی ہوں گے۔"

صدر براک اوباما کی انتظامیہ شام کے مستقبل کے بارے میں ایک منصوبے کی خواہاں رہی ہے جس میں شامی عوام اور تمام فریقین کی شمولیت ہو لیکن اس میں بشار الاسد کا عمل دخل نہیں ہوگا۔

تاہم اس معاملے پر کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے اور گزشتہ پانچ سال سے جاری لڑائی کے باعث یہ ملک انسانی بحران کا شکار ہو چکا ہے۔

XS
SM
MD
LG