رسائی کے لنکس

شام: بشار الاسد تیسری بار صدر 'منتخب'


منگل کو ہونے والا صدارتی انتخاب صرف ان علاقوں تک محدود رہا تھا جو صدر بشار الاسد کی حکومت کے کنٹرول میں ہیں۔

منگل کو ہونے والا صدارتی انتخاب صرف ان علاقوں تک محدود رہا تھا جو صدر بشار الاسد کی حکومت کے کنٹرول میں ہیں۔

حکام کے مطابق بشار الاسد نے منگل کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں 89 فی صد ووٹ حاصل کیے۔ انتخاب میں صدر اسد کا مقابلہ دو نسبتاً غیر معروف امیدواروں سے تھا۔

شام کے صدر بشار الاسد مسلسل تیسری بار سات سال کے لیے ملک کے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔ ان کے عہدے کے میعاد 2021ء میں ختم ہوگی۔

حکام کے مطابق بشار الاسد نے منگل کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں 89 فی صد ووٹ حاصل کیے۔ انتخاب میں صدر اسد کا مقابلہ دو نسبتاً غیر معروف امیدواروں سے تھا۔

مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق منگل کو ہونے والا صدارتی انتخاب صرف ان علاقوں تک محدود رہا تھا جو صدر بشار الاسد کی حکومت کے کنٹرول میں ہیں۔

حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ انتخاب میں 73 فی صد رجسٹرڈ ووٹوں نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔

شامی حزبِ اختلاف کی جماعتیں، باغی تنظیمیں، اقوامِ متحدہ، امریکہ اور دیگر مغربی ممالک صدارتی انتخابات کو پہلے ہی "ایک دھوکہ" قرار دیتے ہوئے مسترد کرچکے ہیں۔

شامی حزبِ اختلاف اور اس کے حامی ممالک کا موقف ہے کہ تین برسوں سے بدترین خانہ جنگی کا شکار ایک ایسے ملک میں شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کا انعقاد ممکن ہی نہیں جس کے وسیع رقبے پر حکومت کا اختیار ہی نہ ہو۔

لیکن صدر اسد کی حکومت کا اصرار تھا کہ انتخابات شام کی تین سالہ خانہ جنگی کا "جمہوری حل" ثابت ہوں گے جن کے نتیجے میں ملک میں جاری بدامنی کاخاتمہ ہوسکے گا۔

بشار الاسد نے 2000ء میں اپنے والد حافظ الاسد کے انتقال کےبعد پہلی بار اقتدار سنبھالا تھا جب کہ سنہ 2007ء کے صدارتی انتخاب میں وہ بلامقابلہ کامیاب ہوگئے تھے۔

منگل کو ہونے والی پولنگ صبح سات بجے شروع ہوئی تھی جسے شام سات بجے ختم ہونا تھا۔ لیکن حکام نے "لوگوں کے ہجوم کے باعث" ووٹ ڈالنے کے وقت میں نصف شب تک اضافے کا اعلان کیا تھا۔

انتخابی عمل کی نگرانی کرنے والے غیر ملکی مبصرین میں شام کے اتحادی ممالک ایران، روس اور وینزویلا سمیت دیگر ملکوں کے مبصر بھی شامل تھے۔

ان میں سے بعض غیرملکی مبصرین نے سرکاری ٹی وی پر گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیاتھا کہ بیشتر پولنگ اسٹیشنوں پر انتخابی عمل بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہا۔

امریکہ نے اس صدارتی انتخاب کو "شامی عوام کی توہین" قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ صدر بشار الاسد ماضی میں کی جانے والی حرکتوں کی وجہ سے حکومت کرنے کے لیے درکار اخلاقی ساکھ سے محروم ہوچکے ہیں۔

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے انتخاب کو "مکمل ناکام" قراردیا تھا۔ اپنے ردِ عمل میں جان کیری نے کہا تھا کہ ایک ایسے ملک میں شفاف الیکشن کا انعقاد ممکن ہے نہیں جس کے لاکھوں لوگ ووٹ کا حق استعمال کرنے کے قابل ہی نہ ہوں۔
XS
SM
MD
LG