رسائی کے لنکس

جولین اسانج کی درخواستِ ضمانت برطانوی عدالت سے منظور


جولین اسانج کی درخواستِ ضمانت برطانوی عدالت سے منظور

جولین اسانج کی درخواستِ ضمانت برطانوی عدالت سے منظور

ایک برطانوی عدالت نے خفیہ امریکی دستاویزات انٹرنیٹ پر جاری کرنے والی ویب سائٹ وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کی درخواستِ ضمانت کی مشروط منظوری دے دی ہے۔

اسانج گزشتہ ہفتے سے برطانوی پولیس کی تحویل میں تھے اور اس سے قبل ایک برطانوی عدالت کی جانب سے ان کی درخواستِ ضمانت مسترد بھی جاچکی تھی ۔ 39 سالہ آسٹریلین شہری اسانج کو برطانوی پولیس نے سوئیڈن کی جانب سے جاری کردہ انٹرنیشنل وارنٹ کے تحت گرفتار کیا تھا جہاں وہ حکام کو دو خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزامات کے تحت تفتیش کیلیے مطلوب ہیں۔

بی بی سی کے مطابق لندن کی سٹی آف ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ کورٹ نے منگل کے روز جولین اسانج کی درخواستِ ضمانت دو لاکھ پائونڈز کے مچلکوں کے عوض منظور کرلی۔ ضمانت کی شرائط کے مطابق اسانج کو ایک الیکٹرونک کڑا پہنے رکھنے ہوگا تاکہ ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جاسکے۔ ضمانت کی ایک اور شرط کے تحت ان کی نقل و حرکت محدود رہے گی اور انہیں ہر روز متعلقہ تھانے میں حاضر ہوکر اپنا اندراج کرنا ہوگا۔

انسانی حقوق کے حوالے سے معروف وکیل جیفری رابرٹ سن برطانوی عدالت کے سامنے اسانج کے وکیل کی حیثیت سے پیش ہوئے۔

اس سے قبل اسانج کی جانب سے دورانِ قید یہ بیان سامنے آیا تھا کہ ان کی ویب سائٹ کی جانب سے ہزاروں خفیہ امریکی سفارتی دستاویزات کے اجراء کاعمل ہر صورت جاری رکھا جائےگا۔

ایک آسٹریلوی ٹی وی کے مطابق اسانج کی والدہ کرسٹین اسانج خصوصی طور پر آسٹریلیا سے برطانیہ پہنچی ہیں جہاں انہوں نے اپنے بیٹے کی ضمانت پر رہائی سے قبل ان سے لندن کی وینڈز ورتھ جیل میں ملاقات کی۔

ملاقات کے بعد کرسٹین نے اسانج کا ایک تحریری بیان میڈیا کو پڑھ کر سنایا جس میں سابق کمپیوٹر ہیکر کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف عائد کردہ الزامات سے ان کی جدوجہد پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور وہ آزادی رائے کے حوالے سے اپنے بیان کردہ اصولوں سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

اپنے تحریری بیان میں اسانج کا کہنا تھا کہ اپنی موجودہ صورتِ حال کے باوجود وہ اپنی ویب سائٹ کی جانب سے خفیہ امریکی دستاویزات جاری کرنے کے عمل کو درست تصور کرتے ہیں اور ان کی اس قید کا ان کے عزم پر کوئی فرق نہیں پڑا۔

اسانج نے اپنے بیان میں معاشی خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں "پے پال"، "ماسٹر کارڈ" اور "ویزا" کو وکی لیکس سے تعاون ختم کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور انہیں "امریکہ کی خارجہ پالیسی کا آلہ کار" قرار دیا۔

اسانج نے اپنے بیان میں دنیا بھر میں موجود اپنے حامیوں سے اپیل کی کہ وہ آگے آئیں اور ان کے کام کو محفوظ بنائیں۔

اس موقع پر صحافیوں سے گفتگو میں اسانج کی والدہ کا کہنا تھا کہ ان کے بیٹے کو دورانِ قید کمپیوٹر تک رسائی نہیں دی جارہی جبکہ انہیں صرف تین ملاقاتوں اور تین ٹیلی فون کالز سننے کی اجازت ہے۔

اسانج کے حامی سوئڈش وارنٹ پر برطانیہ کی جانب سے ان کی گرفتاری کو وکی لیکس کی جانب سے خفیہ امریکی دستاویزات کی اشاعت کا ردِ عمل قرار دیتے ہیں۔ تاہم سوئڈش حکام کے مطابق ان کی جانب سے اسانج کے خلاف کی گئی کاروائی کا کوئی تعلق وکی لیکس سے نہیں بلکہ اسانج دو مقامی خواتین کے ساتھ دست درازی کے الزامات کے تحت تفتیش کیلیے مطلوب ہیں۔

XS
SM
MD
LG