رسائی کے لنکس

سوئیڈن نے اسانج کی رہائی کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کردی


سوئیڈن نے اسانج کی رہائی کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کردی

سوئیڈن نے اسانج کی رہائی کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کردی

سوئیڈن کی جانب سے جولین اسانج کی ضمانت پہ رہائی کے خلاف برطانوی عدالت میں اپیل دائر کردی گئی ہے جس کے بعد وکی لیکس کے بانی کی رہائی ایک بار پھر کھٹائی میں پڑ گئی ہے۔

منگل کو ایک برطانوی عدالت نے لندن پولیس کی تحویل میں موجود 39 سالہ اسانج کی درخواستِ ضمانت منظور کرکے دو لاکھ پاؤنڈ زرِ ضمانت پر ان کی رہائی کا حکم دیا تھا۔

ضمانت کی شرائط کے مطابق اسانج کی نقل و حرکت محدود کردی گئی تھی اور ان پر نظر رکھنے کیلئے انہیں ہر وقت ایک الیکٹرانک کڑا پہننے کا حکم دیا گیا تھا۔ عدالت نے ان کے پاسپورٹ کی ضبطی کا حکم دیتے ہوئے انہیں روزانہ مقامی تھانے میں حاضر ہونے کا بھی پابند کیا تھاتاہم فیصلے کے فوری بعد سوئیڈش حکام کی جانب سے اسانج کی رہائی کے خلاف برطانوی عدالت میں اپیل دائر کردی گئی جس کے باعث ان کی رہائی جمعرات تک موخر ہوگئی ہے۔جمعرات کو اپیل کی باقاعدہ سماعت ہو گی۔

اسانج کی گرفتاری سوئیڈن کی جانب سے جاری کردہ انٹرنیشنل وارنٹ کے تحت عمل میں آئی تھی جہاں وہ دو خواتین کے ساتھ دست درازی کے الزام میں تفتیش کیلئے پولیس کو مطلوب ہیں۔سوئیڈش حکام نے برطانیہ سے اسانج کو سوئیڈن کے حوالے کرنے کا مطالبہ کررکھا ہے۔

دریں اثناء اسانج کے وکیل مارک اسٹیفنز کا کہنا ہے کہ ان کے موکل کو جیل میں انتہائی بری حالت میں رکھا گیا ہے اور کسی قسم کی سہولیات فراہم نہیں کی جارہیں۔

اسٹیفنز کے مطابق اسانج کو جیل میں دوسرے قیدیوں سے بات کرنے کی اجازت نہیں اور انہیں دن میں ساڑھے تئیس گھنٹے ایک سیل میں قید رکھا جاتا ہے۔

اسانج کی والدہ کرسٹینے اسانج کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے کو دورانِ قید زیادہ ملاقاتوں کی اجازت نہیں جس کے باعث انہیں اپنے وکلاء کے ساتھ مشاورت میں شدید دشواری پیش آرہی ہے۔ ان کے مطابق اسانج کی اپنے کیس کی تیاری کے سلسلے میں کمپیوٹر فراہم کرنے کی درخواست بھی جیل حکام کی جانب سے مسترد کردی گئی ہے۔

سوئیڈش حکام کا کہنا ہے کہ ان کی جانب سے اسانج کی حوالگی کا مطالبہ اور ان کے خلاف کاروائی ان پر عائد جنسی زیادتی کے الزامات کی تفتیش کی غرض سے کی جارہی ہے جسے وکی لیکس سے جوڑنا درست نہیں تاہم اسانج کے وکلاء کا کہنا ہے کہ ان کے موکل نے اپنے سوئیڈن اور بعد ازاں برطانیہ میں قیام کے دوران کئی بار سوئیڈش حکام کو تحقیقات میں تعاون کی پیشکش کی تھی جس کا جواب نہیں دیا گیا۔

XS
SM
MD
LG