رسائی کے لنکس

'میری ساتھی کیری اور میں نے ملالہ کی حیرت انگیز کہانی پڑھی اور سوچا کہ اگر کوئی اس قابل ہےکہ اسے سیارچے کے ساتھ منسوب کیا جاسکے تو وہ ملالہ ہے'

امریکی خلائی ادارے ناسا نے پاکستان کی نوبل انعام یافتہ، ملالہ یوسفزئی سے متاثر ہو کر سیارچے کا نام ملالہ رکھ دیا ہے۔

انسانی حقوق کی سرگرم کارکن 17 سالہ ملالہ یوسفزئی تعلیم تک رسائی کے لیے خواتین کے حقوق کے لیے لڑ رہی ہے، جس کے لیے انھیں بہت سےعالمی اعزازات سے نوازا گیا ہے؛ اور اب، ملالہ کے اعزاز میں خلائی ادارے ناسا کی طرف سے دریافت شدہ سیارچے کو ملالہ کےنام سے منسوب کردیا گیا ہے۔

اس انوکھے اعزاز کے ساتھ ملالہ اب آسمان کی وسعتوں میں ستاروں کے ساتھ اپنا نام شیئر کر رہی ہے۔

ملالہ فنڈ کے مطابق، پانچ برس قبل دریافت کیا جانے والا سیارچہ باقاعدہ طور پر 316201 کہلاتا تھا جسے اب ملالہ کے نام سے منسوب کیا گیا گا۔

کیلی فورنیا میں ناسا سے وابستہ سائنسدان ڈاکٹر ایمی مینزر نےلکھا کہ 'سیارچے کو ملالہ کا نام دینا میرے لیے اعزاز کی بات ہے‘۔

ایمی مینزر کہتی ہیں کہ 'میری ساتھی کیری نوگینٹ اور میں نے ملالہ کی حیرت انگیز کہانی پڑھی اور سوچا کہ اگر کوئی اس قابل ہےکہ اسے سیارچے کے ساتھ منسوب کیا جاسکے تو وہ ملالہ ہے' ۔

ڈاکٹر مینزر نےمزید کہا 'اصل میں میری پوسٹ ڈاکٹریٹ کی ساتھی کیری نوگینٹ نے میری توجہ اس حقیقت کی طرف دلائی کہ اگرچہ اب تک بہت سے دریافت شدہ سیارچوں کو شناخت کے لیے نام دیا گیا ہے۔ لیکن، ان میں سےچند کو ہی عورتوں کی شراکت کے احترام میں، خواتین کے نام سے منسوب کیا گیا ہے ۔'

ناسا کے ماہرین کی طرف سے جاری ہونے والی تفصیلات کے مطابق، ملالہ کے نام سے منسوب کیا جانے والا سیارچہ مریخ اور مشتری کےدرمیان بنیادی سیارچی پٹی پر ہے۔ اس کا قطر تقریبا 4کلو میٹر یا 2.5 میل ہے،جبکہ اس کی سطح پر تاریکی ہے اور یہ ہر 5.5 سال میں سورج کےگرد اپنا چکر مکمل کرتا ہے۔

سائنسدان مینزر نے بتایا کہ 'ماہرین کی ٹیم نے خلائی دوربین کو استعمال کرتے ہوئے سیارچہ دریافت کیا، اس مشن کی پرنسپل تفتیش کار چونکہ میں تھی اس لیے بین الاقوامی فلکیاتی یونین کے قوانین کی طرف سے مجھے اپنے دریافت شدہ سیارچہ کو نام دینےکا اختیار حاصل ہے ۔'

خلائی ادارے ناسا کی طرف سے جاری ہونے والی تصویر میں ملالہ سیارچہ اوپری دائیں طرف سرخ نقطئہ ہے۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس تصویر میں ستاروں کا رنگ نیلاہے کیونکہ یہ انتہائی گرم ہیں اور انتہائی گرم شعلہ نیلے اور نسبتا ٹھنڈے سیارچے سرخ رنگ میں ہیں۔

ڈاکٹر مینزر نےاپنے بلاگ میں لکھا کہ امید ہے کہ 'اس اقدام سے لڑکیوں کو سائنس میں کیرئیر بنانے کے لیے حوصلہ افزائی ملے گی‘۔

بقول ڈاکٹر ایمی مینزر لڑکیوں کو میرا مشورہ ہے کہ سائنس اور انجنیئرنگ ہر ایک کے لیے ہے۔ اور انسانیت کے کچھ مشکل مسائل کےحل کے لیے ہمیں شدت سے ہوشیار افراد کی دماغی قوت کی ضرورت ہے۔

XS
SM
MD
LG