رسائی کے لنکس

انجنیئروں کو شبہ ہے کہ ریڈیئٹر کو شہاب ِثاقب یا پھر اُڑتے ہوئے خلائی کچرے کا کوئی ٹکڑا لگا ہوگا، جِس کے باعث نظام میں چھوٹا سا سوراخ ہونے پر امونیا گیس کے ذرات لیک ہونے لگے

بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے مدار سےباہر دو خلا باز کولنگ سسٹم میں پڑنے والے شگاف کو ٹھیک کرنے کی کوشش میں ٕمصروف ہیں۔

انجنیئروں کو شبہ ہے کہ ریڈیئٹر کو شہاب ِثاقب یا پھراُڑتے ہوئے خلائی کچرے کا کوئی ٹکڑا لگا ہوگا، جِس کے باعث نظام میں چھوٹا سا سوراخ ہونے پر امونیا گیس کے ذرات باہر نکلنے لگے ہیں۔

اِن ریڈئیٹرز کے ذریعے خلائی اسٹیشن کے آلات سے حدت خارج ہوتی ہے۔

اسٹیشن کمانڈر سُنیتا (سنی) ولیمز اور فلائیٹ انجنیئر اَکی ہیکو (اَکی) ہوشیدا ’گرین وِچ مین ٹائم‘ کے مطابق ساڑھے بارہ بجے دوپہر خلائی اسٹیشن سے باہر نکلے، تاکہ لائنز کی مرمت کا کام کر سکیں اور ایک اسپیئر ریڈئیٹر کو نصب کریں۔


اگر مسئلہ حل نہیں ہوتا، تو ایک بار پھر خلائی چہل قدمی کی ضرورت پڑے گی اور شگاف کی وجہ کا تعین کرنے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔

ایسے میں جب اسپیس اسٹیشن کے ساتھ ’کولینٹ لائنز‘ جوڑنے کا عمل جاری ہے، ولیمز اور ہوشیدا ’ ناسا‘ کے گراؤنڈ کنٹرول انجنیئروں کے ساتھ مستقل رابطے میں ہیں۔

ایک طرف تو دو خلاباز خلائی اسٹیشن کےباہر مرمت کا کام انجام دے رہے ہیں، عملے کے باقی چار ارکان بدھ کو بین الاقوامی اسپیس اسٹیشن پر پہنچنے والے ’روسی پروگریس‘ جہاز سے لائی جانے والی رسد کو اتارنے کا کام کررہے ہیں۔
XS
SM
MD
LG